انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 62 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 62

انوار العلوم جلد 26 62 خلافت حقہ اسلامیہ اور نظام آسمانی کی مخالفت۔ان دونوں آیتوں سے ظاہر ہے کہ شیطان نے جو نظام الہی کے خلاف رقابت کا مادہ بنو اسحاق کے دل میں پیدا کیا تھا وہ حضرت اسماعیل کی زندگی تک ختم نہیں ہوا بلکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ تک لمبا ہوتا گیا۔اور جس طرح پہلے اُس نے حضرت اسماعیل کو اُن کی وراثت سے محروم کرنا چاہا تھا اسی طرح دو ہزار سال بعد اس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی وراثت سے محروم کرنا چاہا۔لیکن ایک بات یاد رکھنی چاہیے اور وہ یہ ہے کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ قریب آیا اور شیطان نے دیکھا کہ اب پرانا حسد ختم ہو جائے گا اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بن اسماعیل کے دشمنوں کو کچل ڈالیں گے اور ان پر غالب آجائیں گے تو اُس نے ایک نئے بغض کی بنیاد ڈالی جو محمد رسول اللہ کے بعد بھی فتنہ پیدا کرتا چلا جائے۔چنانچہ اس کی تفصیل یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پردادا عبد مناف کے ایک بیٹے عبدالشمس تھے۔عبد مناف کے ایک اور چھوٹے بیٹے ہاشم تھے۔اور عبد الشمس کا بیٹا امیہ تھا۔عبد مناف کے مرنے کے بعد قرعہ ڈالا گیا اور با وجود چھوٹا ہونے کے ہاشم کو وارث قرار دیا گیا۔اور مسافروں کو چاہ زمزم سے پانی پلانا اور حاجیوں کی خدمت کرنا جوسب سے بڑا عہدہ سمجھا جاتا تھاوہ اُسے دیا گیا۔اسی طرح غیر حکومتوں کے پاس وفد بھجوانے کا جو کام تھا اور ان کی سرداری کرنے کا عہدہ بھی ان کے سپر د ہوا۔عبد الشمس کے بیٹے امیہ کو یہ بات بُری لگی۔شیطان نے اُس کے دل میں ڈالا کہ یہ عہدہ ہاشم کے پاس کیوں جائے۔اور اُس نے قوم میں مقبولیت حاصل کرنے کے لئے ہاشم کے کاموں کی نقل شروع کر دی۔یعنی مسافروں کو زم زم سے پانی بھی پلاتا تھا اور بہت کچھ دا دور بہش 27 بھی کرتا تھا تا کہ عوام میں مقبول ہو جائے۔قریش نے جب یہ بات دیکھی تو انہوں نے سمجھا کہ یہ خاندان آپس کے مقابلہ میں تباہ ہو جائے گا۔اور یہ دیکھتے ہوئے کہ امتیہ ضدی ہے انہوں نے ہاشم سے اصرار کیا کہ کوئی ثالث مقرر کر کے فیصلہ کروالو۔مگر اول تو ہاشم چونکہ امیہ سے عمر میں بڑے تھے اور ریاست کا حق ان کو مل چکا تھا ނ انہوں نے انکار کر دیا کہ میں فیصلہ ثالثی نہیں کراتا مگر آخر ساری قوم نے خاندان کو تا ہی۔بچانے کے لئے امیہ اور ہاشم پر ثالثی کے لئے زور دیا۔آخر ہاشم بھی مان گئے اور امیہ بھی مان گئے۔اور امیہ نے خزاعہ قبیلہ کے ایک کا ہن کو ثالث تجویز کیا۔ہاشم نے بھی اُسے مان لیا۔اس