انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 635 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 635

انوار العلوم جلد 26 635 احباب جماعت کے نام تازہ پیغام اَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ پیغامات نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ هُوَ النَّاصِرُ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ برادران جماعت ! السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ - ایک گزشتہ مجلس شوریٰ میں میں نے فیصلہ کیا تھا کہ ہر سال ایک ہفتہ وصیت منایا جایا کرے تا کہ وصایا میں اضافہ ہو اور تا اسلام اور احمدیت کی اشاعت کے لئے لوگوں کے اندر زیادہ سے زیادہ قربانی کا جذبہ پیدا ہو۔نظارت بہشتی مقبرہ اس فیصلہ کی تعمیل ہر سال کرتی رہی ہے اور مجھے معلوم ہوا ہے کہ اس سال بھی ہفتہ وصیت منانے کے لئے 12 سے 18 مارچ کے ایام مقرر کئے گئے ہیں۔سیکرٹری صاحب بہشتی مقبرہ نے مجھ سے خواہش کی ہے کہ اس موقع پر میں بھی جماعت کو کوئی پیغام دوں۔میں دوستوں سے صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ وصیت کی اہمیت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے رسالہ الوصیت میں اچھی طرح واضح کر دی ہے۔اس کے بعد میں نے بھی اپنے خطبات اور تقریروں اور تحریروں میں اس کی طرف بارہا توجہ دلائی ہے مگر جیسا کہ مجھے بتایا گیا ہے اب تک وصیت کرنے والوں کی تعداد قریباً ساڑھے سولہ ہزار تک پہنچی ہے جو جماعت کی موجودہ تعداد کے مقابلہ میں بہت کم ہے۔اگر نظارت بہشتی مقبرہ کثرت سے اس بارہ میں الوصیت اور میری تقریروں اور تحریروں کو شائع کرے تو امید ہے کہ وصایا کی کمی بہت جلد دور ہو جائے گی اور سلسلہ کی مالی حالت بھی پہلے سے زیادہ مضبوط ا ہو جائے گی کیونکہ اس کی مضبوطی کا وصایا کی زیادتی کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔پس میں اس کے ذریعہ جماعت کے ہر فرد کو جس کا گزارہ ماہوار آمدن یا جائیداد پر ہے نظامِ وصیت میں شامل ہونے کی تحریک کرتا ہوں اور ہر مرکزی اور مقامی جماعت کے