انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 622 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 622

انوار العلوم جلد 26 622 ہ احباب جماعت کے نام پیغام بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ برادران جماعت ! اعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ پیغامات نَحْمَدُه وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ هُوَ النَّاصِرُ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اللہ تعالیٰ کے منشاء کے ماتحت وصیت کا نظام قائم فرمایا تھا اور جماعت کے دوستوں کو ہدایت فرمائی تھی کہ وہ اشاعت اسلام کے لئے اپنے مالوں اور جائیدادوں کو اُس کی راہ میں پیش کریں تا کہ انہیں مرنے کے بعد جنتی زندگی حاصل ہو۔اس تحریک میں خدا تعالیٰ کے فضل سے اب تک ہزاروں لوگ حصہ لے چکے ہیں مگر ابھی ایک بہت بڑی تعداد ایسے لوگوں کی بھی پائی جاتی ہے جنہوں نے وصیت نہیں کی اور یہ ایک افسوسناک امر ہے۔میں اس پیغام کے ذریعہ تمام جماعتوں کے امراء اور پریذیڈنٹوں اور مربیان سلسلہ کو خاص طور پر توجہ دلاتا ہوں کہ وہ غیر موصی اصحاب کو وصیت کرنے اور موصی اصحاب کو اپنی قربانیوں میں اور بھی اضافہ کرنے کی طرف بار بار توجہ دلاتے رہیں۔اگر ہر وصیت کرنے والا کم از کم ایک نئے شخص سے ہی وصیت کروانے میں کامیاب ہو جائے تو ہمارے بجٹ میں ہزاروں لاکھوں روپیہ کا اضافہ ہوسکتا ہے۔اور اگر امراء اور جماعتوں کے پریذیڈنٹ اور سلسلہ کے مربی بھی اس تحریک کی اہمیت کو سمجھیں تو چند دنوں میں ہی سلسلہ کی مالی حالت میں غیر معمولی ترقی ہو سکتی ہے۔میں امید کرتا ہوں کہ جو دوست ابھی موصی نہیں وہ وصیت کرنے اور موصی اصحاب دوسروں سے زیادہ سے زیادہ وصیتیں کروانے کی خاص طور پر کوشش کریں گے۔اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کو اپنے فرائض کے سمجھنے اور اس نظامِ وصیت میں شامل ہونے کی توفیق بخشے جو اعلائے کلمہ اسلام کے لئے جاری کیا گیا ہے۔