انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 569 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 569

انوار العلوم جلد 26 569 جلسہ سالانہ 3 196 ء کے افتتاحی و اختتام کہ جماعت کو اپنی آئندہ نسل کی درستی کا خاص فکر نہیں اور یہ ایک نہایت ہی خطر ناک بات ہے۔چنانچہ اس کا ثبوت یہ ہے کہ تحریک جدید کے دو راول میں تو بڑی کثرت کے ساتھ لوگوں نے حصہ لیا مگر نئے دور میں شامل ہونے والوں کی تعداد اُن کی نسبت کے لحاظ سے بہت کم ہے۔اور پھر جو لوگ وعدہ کرتے ہیں وہ وقت کے اندر اپنے وعدوں کو پورا کرنے کی کوشش نہیں کرتے حالانکہ اشاعتِ اسلام کا کام کسی ایک نسل کے ساتھ وابستہ نہیں بلکہ قیامت تک اس نے جاری رہنا ہے۔پس اپنے اندر صحیح معرفت پیدا کرو اور اپنی آئندہ نسلوں کو اسلام کا بہادر سپاہی بنانے کی کوشش کرو۔اور اس نکتہ کو کبھی مت بھولو کہ قربانی اپنا پھل تو ضرور لاتی ہے مگر یہ ضروری نہیں کہ ہر قربانی کا پھل قربانی کرنے والا ہی کھائے۔جو شخص یہ چاہتا ہے کہ ساری قربانیوں کا پھل وہ خود ہی کھائے اُس سے زیادہ نادان اور کوئی نہیں ہوسکتا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خدا تعالیٰ کے حکم کے ماتحت اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو ایک وادئ غیرِ ذِي زَرْعٍ میں رکھا مگر اُس کا پھل ایک مدت دراز کے بعد محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شکل میں ظاہر ہوا اور دنیا اس پھل کو دیکھ کر حیران رہ گئی۔پھر تم کیوں یہ خیال کرتے ہو کہ تمہاری قربانیوں کا بدلہ تمہیں آج ہی ملنا چاہئے۔اگر تمہاری نسل کسی وقت بھی تمہاری قربانیوں سے فائدہ اٹھا لے تو حقیقتا تمہاری قربانیوں کا پھل تمہیں مل گیا۔پس اپنے ذہنوں میں چلا اور اپنے فکر میں بلندی پیدا کرو اور قربانیوں کے میدان میں ہمیشہ آگے کی طرف قدم بڑھاؤ۔اگر تم ایسا کرو گے تو خدا تعالیٰ اپنی تائیدات سے تمہیں اس طرح نوازے گا کہ تم دنیا کے میدان میں ایک فٹ بال کی حیثیت نہیں رکھو گے بلکہ تم اُس برگزیدہ انسان کا ظل بن جاؤ گے جس کے متعلق آسمانی نوشتوں میں یہ کہا گیا تھا کہ وہ کونے کا پتھر ہو گا جس پر وہ گرے گا وہ بھی چکنا چور ہوگا اور جو اُس پر آگرا وہ بھی چکنا چور ہوگا۔2 میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہماری جماعت کے مردوں اور ان کی عورتوں اور ان کے بچوں اور ان کے بوڑھوں کو اپنے فرائض کے ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔اور