انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 9 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 9

انوار العلوم جلد 26 9 افتتاحی تقریر جلسہ سالانہ 1956ء جب آپ سیر کے لئے نکلے تو سات سو آدمی ساتھ تھا، ہجوم بہت تھا، آنے والے بے چاروں نے کبھی یہ نظارہ تو دیکھا نہ تھا، باہر تو دوسو آدمی بھی لوگوں کو کسی روحانی بزرگ کے گرد جاتا ہوا نظر نہ آتا تھا۔میلوں میں بے شک جاتے ہیں لیکن روحانی نظاروں میں نہیں جاتے۔اس لئے اُن کے لئے عجیب چیز تھی، لوگ دھکے کھا رہے تھے۔حضرت صاحب ایک قدم چلتے تھے تو ٹھو کر کھا کر آپ کے پیر سے جوتی نکل جاتی تھی۔پھر کوئی احمدی ٹھہرالیتا کہ حضور! جوتی پہن لیجئے اور آپ کے پیر میں جوتی ڈال دیتا۔پھر آپ چلتے تو پھر کسی کا ٹھڈا لگتا اور جوتی پرے جاپڑتی۔پھر وہ کہتا کہ حضور! ٹھہر جائیے جوتی پہنا دوں۔اسی طرح ہو رہا تھا تو ایک زمیندار دوست نے دوسرے زمیندار دوست سے پوچھا ” او توں مسیح موعود دا دست پنجہ لے لیا ہے؟ یعنی کیا تو نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے مصافحہ کر لیا ہے؟ وہ کہنے لگا ”ایتھے دست پنجہ لین دا کیہڑا ویلا ہے، نیڑے کوئی نہیں ہون دیندا ، یعنی یہ مصافحہ کرنے کا کونسا موقع ہے یہاں تو کوئی قریب بھی نہیں آنے دیتا۔اس پر وہ جو عاشق زمیندار تھا وہ اس کو دیکھ کر کہنے لگا تجھے یہ موقع پھر کب نصیب ہوگا۔بے شک تیرے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں پھر بھی لوگوں کے درمیان میں سے گز رجا اور مصافحہ کر آ۔تو گجا وہ وقت ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور گجا یہ وقت اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔اب ہماری کم سے کم پچاس یا سو یا اس سے بھی زیادہ جماعت موجود ہے جس میں ہزار سے زیادہ آدمی ہیں۔قریباً ستر اسی ہزار یالا کھ تو صرف سیالکوٹ میں موجود ہے۔کوئی بیس ہزار کے قریب لائل پور میں ہے۔اسی طرح جھنگ اور سرگودھا کے علاقے جو ملتے ہیں اُن میں بھی جماعت ہیں ہزار کے قریب جا پہنچی ہے۔کیونکہ صرف ربوہ کی ہی اب گیارہ بارہ ہزار آبادی ہو گئی ہے۔یہ کور دیہہ کے جس کی تصویر اب بھی اپنے ایمان بڑھانے کے لئے دفتروں میں جا کر دیکھ لیا کرو محض ایک جنگل تھا اور تین چار خیمے لگے ہوئے تھے۔اس میں ہم آکے کہے۔ابھی ساری دنیا اُجڑی پھر رہی ہے اور خدا نے ہم کو ایک مستقل وطن دے دیا ہے۔ہم اس جگہ پر اکٹھے ہوئے اور تین سال کے اندراندر کی عمارتیں بن گئی ہیں۔آج سے پانچ چھ سال پہلے جب جلسہ ہوا تھا تو اُس وقت ہم کچے مکانوں میں رہتے تھے۔پھر اس کے بعد تمام کوٹھیاں ہی کوٹھیاں