انوارالعلوم (جلد 26) — Page 8
انوار العلوم جلد 26 8 افتتاحی تقریر جلسہ سالانہ 1956ء روتے کہ باوجود خدا تعالیٰ کے فضلوں کے بار بار دیکھنے کے پھر بھی ہم اس کا اندازہ لگانے سے قاصر رہے اور پھر بھی خدا کے مہمانوں کو ہم آرام نہیں پہنچا سکے۔میں سات آٹھ دن سے برابر کہہ رہا تھا کہ دیکھو خدا تعالیٰ کی غیرت اس وقت بھڑ کی ہوئی ہے۔باغیوں کی بغاوت کی وجہ سے خدا تعالیٰ عرش پر غصہ سے بھرا ہوا بیٹھا ہے اور وہ ضرور ان کو نمونہ دکھائے گا اور نشان دکھائے گا اس لئے تیار ہو جاؤ کہ خدا تعالیٰ اب برکت کے دروازے کھولنے والا ہے اور ہزاروں ہزار آدمی پچھلے سال سے زائد آئے گا۔چنانچہ اس وقت تک بھی قریباً نو ہزار آدمی زیادہ آچکا ہے۔اب اگلے دنوں میں اور بھی امید ہے۔ابھی تو ستائیس کی تاریخ کو لوگ زیادہ آیا کرتے ہیں۔پس ستائیس بھی ہے، اٹھائیس بھی ہے۔اور پھر ابھی کیا ہے پھر جن کو خدا تعالیٰ زندہ رکھے گا اگلا سال بھی ہے جبکہ اس سے بھی زیادہ لوگ آئیں گے۔اور ہر دفعہ دشمن روسیاہ ہوگا اور ہر دفعہ دشمن شرمندہ ہو گا کہ جس جماعت کو ہم مارنا چاہتے تھے وہ پھر زندہ ہو کر نکل رہی ہے۔پس ایک طرف تو میں منتظمین کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ پورے زور سے خدا تعالیٰ کے فضلوں کا اندازہ کر کے ایسا انتظام کیا کریں کہ آئندہ مہمانوں کو تکلیف نہ ہو اور مہمانوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ اگر ایک دن تکلیف بھی ہو تو وہ اس بات پر خوش ہوا کریں کہ دیکھو ہمارا خدا کتنا شاندار ہے کہ دشمن کی مخالفت کے باوجود ہم کو بڑھا رہا ہے۔پس اگر تکلیف ہو تو تمہیں الحمد کرنی چاہیے اور خدا تعالیٰ کے ذکر میں بڑھنا چاہیے۔اور جو منتظم ہیں ان کو شرمندہ ہونا چاہیے اور ان کو خدا تعالیٰ سے عاجزانہ معافی مانگنی چاہیے کیونکہ ان کا قصور ہے اور تمہارے لئے برکتوں اور رحمتوں کی علامت ہے۔مجھے یاد ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں گل سات سو آدمی آئے تھے۔اب ایک ایک بلاک میں کئی کئی ہزار بیٹھا ہے۔اُس وقت آپ کی زندگی کا آخری سال تھا اور گل سات سو آدمی جلسہ پر آیا اور انتظام اتنا خراب ہوا کہ رات کے تین بجے تک کھانا نہ مل سکا اور آپ کو الہام ہوا کہ يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ أَطْعِمُوا الْجَائِعَ وَالْمُعْتَرَّ A اے نبی ! کھو کے اور پریشان حال کو کھانا کھلاؤ۔چنانچہ صبح معلوم ہوا کہ مہمان تین بجے رات تک لنگر خانہ کے سامنے کھڑے رہے اور ان کو کھانا نہیں ملا۔پھر آپ نے نئے سرے سے فرمایا کہ دیکھیں چڑھاؤ اور ان کو کھانا کھلاؤ۔تو دیکھو سات سو آدمیوں کی یہ حالت ہوئی مگر اُن سات سو آدمیوں کا یہ حال تھا کہ