انوارالعلوم (جلد 26) — Page 546
انوار العلوم جلد 26 546 اُس دن کو قریب سے قریب تر لانے کی کوشش سلام۔۔اُسے اپنے نفس میں شرم محسوس ہوتی رہے گی اور وہ کوشش کرے گا کہ میں دوسرے سال ہی اپنی اس کو تا ہی کا ازالہ کروں۔اور نہ صرف گزشتہ کمی کو پورا کروں بلکہ پہلے سے دُگنے آدمیوں کو پیغام حق پہنچا کر اللہ تعالیٰ کے حضور سرخرو ہو جاؤں۔پس یہ چیز نہایت اہم ہے اور ہماری جماعت کے افراد کو اسے ایسا ہی ضروری سمجھنا چاہئے جیسے چندہ کو ضروری سمجھا جاتا ہے۔بلکہ چندے سے بھی زیادہ زور دوستوں سے عہد لینے اور پھر اس عہد کو پورا کروانے پر صرف کرنا چاہئے۔کیونکہ چندہ تو بسا اوقات گھر کے تمام افراد میں سے صرف ایک شخص دیتا ہے جو کمانے والا ہوتا ہے لیکن اشاعت حقہ ایک ایسی چیز ہے جو کسی ایک شخص کا نہیں بلکہ جماعت کے ہر فرد کا فرض ہے۔اور پھر آجکل تو خصوصیت سے اس پر زور دینے کی ضرورت ہے کیونکہ پاکستان میں مسلمانوں کی غفلت سے فائدہ اٹھا کر عیسائیوں نے اپنی مذہبی سرگرمیوں میں بہت اضافہ کر دیا ہے۔آپ لوگ اُس عظیم الشان انسان کی جماعت میں شامل ہیں جسے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کاسر الصليب قرار دیا ہے اور آپ لوگوں کی تبلیغ اسلام کے مخالف تک معترف ہیں۔چنانچہ مصر کے ایک مشہور اخبار الفتح نے بھی ایک دفعہ لکھا کہ جماعت احمدیہ کے تبلیغی مراکز یورپ، امریکہ اور افریقہ میں قائم ہو چکے ہیں جو اپنے علم اور کام کے لحاظ سے تو عیسائی مشنوں کے برابر ہیں لیکن کامیابی اور لوگوں کے قلوب فتح کرنے کے لحاظ سے عیسائی پادریوں کو ان سے کوئی نسبت ہی نہیں کیونکہ اُن کے پاس اسلام کی صداقتیں اور اس کے پُر حکمت معارف ہیں۔پس آپ لوگوں کی ذمہ داریاں دوسرے مسلمانوں سے بہت زیادہ ہیں۔اور عیسائیت کا مقابلہ کرنے کا حقیقی فرض در حقیقت آپ کے کندھوں پر ہی عاید ہوتا ہے۔اس لئے جہاں دوسرے مسلمانوں کو سمجھانا اور انہیں احمدیت کی غرض و غایت سے واقف کرنا اور ان کی غلط فہمیوں کو دور کرنا آپ کا فرض ہے وہاں عیسائیت کے فتنہ کو دور کرنے کے لئے بھی اپنے اپنے علاقہ میں منظم کوشش کرنا اور مسلمانوں کے پسماندہ اور غیر تعلیم یافتہ طبقہ کو عیسائیت کے اثر سے بچانا بھی آپ کے اہم فرائض میں شامل ہے۔میں سمجھتا ہوں عیسائیوں میں یہ حرکت بھی اسی لئے پیدا ہوئی ہے کہ ہماری جماعت