انوارالعلوم (جلد 26) — Page 540
انوار العلوم جلد 26 540 اُس دن کو قریب سے قریب تر لانے کی کوش سلام۔۔طرف پھیر دیا اور بعض کی تو رقت کی وجہ سے چیخیں نکل گئیں اور سب نے یک زبان ہو کر کہا کہ ہم ہرگز یہ رائے نہیں دیتے کہ مدرسہ احمد یہ بند ہونا چاہئے۔ہم اسے جاری رکھیں گے اور مرتے دم تک بند نہیں ہونے دیں گے۔تب خواجہ کمال الدین صاحب کھڑے ہوئے اور انہوں نے اپنے طریق کے مطابق کہا کہ دوستوں کو غلط نہی ہوئی ہے ہمارا مطلب بعینہ وہی تھا جو میاں صاحب نے بیان کیا ہے۔یہ خواجہ صاحب کا عام طریق تھا کہ جب وہ دیکھتے کہ اُن کی کسی بات کو لوگوں نے پسند نہیں کیا تو کہتے کہ دوستوں کو غلط نہی ہوگئی ہے۔چنانچہ پھر انہوں نے اس غلط فہمی کو دور کرنے کیلئے ایک تقریر بھی کی مگر آخر میں کہا کہ اس پر مزید غور کر لیا جائے۔ابھی ہم کوئی فیصلہ نہیں کرتے۔بعد میں ہم خط و کتابت کے ذریعہ مشورہ حاصل کر لیں گے۔انہوں نے سمجھا کہ شاید اسی طرح جماعت کی رائے اُن کی تائید میں ہو جائے۔چنانچہ کچھ وقفہ کے بعد انہوں نے پھر تمام جماعتوں سے رائے طلب کی مگر جماعت نے یہی لکھا کہ وہی فیصلہ ٹھیک ہے جو ہم قادیان میں کر کے آئے تھے۔اب بتاؤ اُس وقت کون تھا جس نے میری مدد کی؟ مجھے تو کہنے والے یہی کہتے تھے کہ اب کسی اور تقریر کی ضرورت نہیں بہت تقریریں ہو چکی ہیں اور معاملہ بالکل صاف ہے مگر خدا نے میری ہر میدان میں تائید کی اور مجھے ہر جگہ مظفر و منصور کیا۔بے شک غیر مبایعین ہمیشہ مجھ پر اعتراضات کرتے رہتے ہیں مگر وہ یہ نہیں دیکھتے کہ اسلام کے لئے کس کا وجود مفید ثابت ہوا ہے۔کیا میرا یا اُن کا ؟ انہوں نے تو یہی کیا کہ وہ شخص جو اسلام کی خدمت کر رہا ہے ، جومحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نور دنیا میں پھیلا رہا ہے، جو قرآن کریم کی عظمت عالم میں قائم کر رہا ہے اُس پر رکیک اور بے بنیاد حملے کر دئیے۔اس قسم کے حملوں سے بھلا کونسا مقدس انسان بیچا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی متعدد اعتراضات لوگوں نے کئے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام پر بھی لوگوں نے کئی اعتراضات کئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر بھی اعتراض کرنے والوں نے اعتراض کئے۔پس اس قسم کی باتوں سے کیا بنتا ہے۔دیکھنے والی بات تو یہ ہے کہ اسلام کو فائدہ کس کے ذریعہ پہنچ رہا ہے۔اگر کوئی شخص واقعہ میں یہ سمجھتا ہے کہ میں نے