انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 528 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 528

انوار العلوم جلد 26 528 ہمارا جلسہ سالانہ شعائر اللہ میں سے ہے۔وفات کے حالات میں نے کبھی نہیں پڑھے کہ میری آنکھیں فرط جذبات سے پر نم نہ ہوگئی ہوں اور مجھے اُسی طرح درد و کرب محسوس نہ ہوا ہو جس طرح آپ کا زمانہ پانے والے مخلصین کو ہوا تھا۔میں نے جب کبھی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ واقعہ پڑھا ہے کہ آپ نے جب پہلی مرتبہ چکی سے پیسے ہوئے بار یک آٹے کی روٹی کھائی تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یاد کر کے آپ کے آنسو بہہ پڑے تو اُس وقت میری آنکھوں سے بھی آنسو بہنے لگ جاتے ہیں۔ایک عورت کہتی ہے میں نے حضرت عائشہ سے پوچھا کہ یہ بات کیا ہے کہ اتنی عمدہ روٹی کھا کر بھی آپ کے آنسو بہہ رہے ہیں؟ انہوں نے فرمایا جب میں نے اس روٹی کا ایک لقمہ اپنے منہ میں ڈالا تو مجھے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم یاد آ گئے کیونکہ آپ کے زمانہ میں چکیاں نہیں تھیں ہم صرف رسل بٹہ پر غلہ گوٹ کر اور پھونکوں سے اس کے چھلکے اڑا کر روٹی پکا لیا کرتے تھے۔مجھے خیال آیا کہ اگر اس وقت بھی چنگیاں ہوتیں اور میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے ملائم اور بار یک آٹے کی روٹی کھلاتی تو آپ کو کتنی راحت پہنچتی۔میری حالت بھی ایسی ہی ہے۔سلسلہ کی کوئی ترقی اور کوئی فتح نہیں جو ایک رنگ میں میرے لئے غم کا نیا سامان پیدا نہیں کرتی کیونکہ اُس وقت مجھے یہ احساس ہوتا ہے کہ آج اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام زندہ ہوتے تو جو فتوحات اور کامیابیاں ہمیں حاصل ہو رہی ہیں ان کے پھول ہم آپ کے قدموں میں جا کر ڈال دیتے۔مگر خدا تعالیٰ کی سنت یہی ہے کہ وہ لوگ جو اپنا خون بہا کر اور اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کی راہ میں ہلکان کر کے خدائی کھیت میں بیج ڈالتے ہیں وہ پھل کاٹتے وقت اس دنیا میں موجود نہیں ہوتے۔لیکن ہمارا دل ان کو کب بھلا سکتا ہے۔ہم اُن کی یاد کو کس طرح فراموش کر سکتے ہیں۔ایک ایک کام جو ہمارے سلسلہ میں ہو رہا ہے۔ایک ایک علمی مسئلہ جو حل ہو رہا ہے، ایک ایک فیضان الہی جو ہم پر نازل ہو رہا ہے۔انہی کی دعاؤں اور برکتوں اور کوششوں کا نتیجہ ہے۔پھر کون ایسا تنگ دل اور احسان فراموش انسان ہوسکتا ہے۔جو کھیت تو کاٹ کر لے آئے ، پھل تو ا کٹھے کر لے مگر اُن لوگوں کو یادنہ