انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 495 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 495

انوار العلوم جلد 26 495 افتتاحی و اختتامی خط سالانہ 1959ء ایسے درخت کی سی ہے جس کا تنا مضبوط ہو اور اُس کی شاخیں آسمان میں پھیلی ہوئی ہوں۔پس آپ لوگ پہلے پاکستان اور ہندوستان کو احمدی بنا ئیں اور جب یہ لوگ احمدی ہو گئے تو خود بخود چندے بھی دیں گے اور غیر ملکوں میں بھی اسلام کی اشاعت کے لئے اپنے آدمی بھجوانا شروع کر دیں گے۔اور فَرْعُهَا فِي السَّمَاء کے مطابق آپ لوگ خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کریں گے اور آپ کی دعائیں کثرت سے قبول ہونے لگیں گی۔پس ہندوستان میں بھی تبلیغ اسلام کو وسیع کرنا ہمارے لئے ضروری ہے۔آج ہندوستان میں جو کروڑوں مسلمان پائے جاتے ہیں یہ کہیں باہر سے نہیں آئے بلکہ خود ہندوؤں میں سے ہی نکل کر آئے ہیں۔ورنہ جو مسلمان باہر سے ہندوستان میں آئے تھے وہ بہت قلیل تھے۔پس ہمارا فرض ہے کہ ہم ہندوستان میں بھی تبلیغ اسلام پر زور دیں۔اس ملک کی ترقی اور عظمت کے قیام کے لئے مسلمانوں نے آٹھ سو سال تک کوشش کی ہے اور ہندوستان کے چپہ چپہ پر ان محبانِ وطن کی لاشیں مدفون ہیں جنہوں نے اس کی ترقی کے لئے اپنی عمریں خرچ کر دی تھیں۔پس ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم اسلام کے خوبصورت اصول پیش کر کے ہندوؤں اور سکھوں کو بھی اپنا جزو بنانے کی کوشش کریں۔جب تک ہم ہندوؤں میں تبلیغ نہیں کریں گے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کرشن ثابت نہیں ہو سکتے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو جس طرح مسیح اور مہدی قرار دے کر اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ آپ کی جماعت کو مسیحیوں پر بھی غلبہ ملے گا اور مسلمانوں کو بھی آپ کے ذریعہ ہدایت حاصل ہو گی اسی طرح آپ کو کرشن قرار دے کر اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ ہندوؤں میں بھی آپ کی تعلیم کی قبولیت پھیلے گی۔چنانچہ جو دوست قادیان میں رہتے ہیں انہوں نے بتایا ہے کہ ہندوؤں اور سکھوں میں اور اسی طرح مسلمانوں میں بھی احمدیت کی طرف بڑی رغبت پیدا ہو رہی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھی ایک دفعہ الہام ہوا کہ وو پھر ایک دفعہ ہندو مذہب کا اسلام کی طرف زور کے ساتھ