انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 494 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 494

انوار العلوم جلد 26 494 افتتاحی و اختتامی خط سالانہ 1959ء نے کہا قرآن۔میں نے کہا حدیث اُس نے کہا قرآن۔اور دونوں اس پر اصرار کرتے رہے۔آخر میں نے اُسے یوں پنچا اور یوں رگیدا اور اس طرح گرایا کہ اُسے ماننا پڑا۔اور کہنے لگا کہ بخاری بھی پیش کر سکتے ہو۔اتنے میں میاں نظام الدین صاحب جا پہنچے اور کہنے لگے جانے دیں اس بحث کو۔میں تو مرزا غلام احمد صاحب کو بھی جو مولوی نور الدین صاحب کے سردار ہیں منوا آیا ہوں۔مولوی محمد حسین صاحب نے کہا کیا منوا آئے ہو؟ میاں نظام الدین نے کہا مرزا صاحب تو کہتے تھے کہ ایک آیت ہی کافی ہے لیکن میں کہہ آیا ہوں کہ حیات مسیح کے ثبوت میں میں دس آیات لکھوا کر لا دیتا ہوں۔اس لئے آپ جلدی سے مجھے حیات مسیح کے ثبوت میں قرآن کریم کی دس آیتیں لکھ دیں۔مولوی محمد حسین صاحب تو فخر کر رہے تھے کہ میں نے مولوی نور الدین کو یوں پنچا اور یوں پچھاڑا اور یوں دلیلیں دیں آخر وہ حدیث کی طرف آگئے۔میاں نظام الدین صاحب کی بات سن کر انہیں غصہ آ گیا اور وہ کہنے لگے بے وقوف کہیں کا۔میں مہینہ بھر نو ر الدین کے ساتھ بحث کرتا رہا اور آخر اُسے اِس طرف لایا کہ حدیث پیش کی جائے گی اور تو پھر بحث کو قرآن کی طرف لے گیا ہے۔مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کا یہ فقرہ میاں نظام الدین صاحب کو اس طرح چُبھا کہ وہ اُسی وقت کھڑے ہو گئے اور کہنے لگے اچھا مولوی صاحب ! پھر جدھر قرآن اُدھر میں۔اگر قرآن مرزا صاحب کے ساتھ ہے تو میں بھی انہیں کے ساتھ ہوں۔اور یہ کہہ کر وہ واپس آگئے اور قادیان آ کر بیعت کر لی۔پس ہم بھی اُدھر ہی ہوں گے جدھر قرآن ہے اور چونکہ خدا تعالیٰ نے اسلام کو تمام دنیا کے لئے نازل کیا ہے اس لیے ساری دنیا میں ہی اسلام کی اشاعت کرنا ہمارا فرض ہے۔کسی خاص قوم یا ملک تک ہماری مساعی محدود نہیں رہنی چاہئیں۔لیکن جیسا کہ میں نے بتایا ہے اس وقت مقدم ہندوستان ہے جس میں ہمارا اصل مرکز ہے اور جس کے لیے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو کرشن قرار دیا گیا ہے۔جس درخت کا تنا مضبوط ہوتا ہے اُس کی شاخیں بھی وسیع ہوتی ہیں۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مَثَلاً كَلِمَةً طَيْبَةً كَشَجَرَةٍ طَيْبَةٍ أَصْلُهَا ثَابِتُ وَفَرْعَهَا فِي السَّمَاءِ 11 یعنی کلمہ طیبہ کی مثال ایک