انوارالعلوم (جلد 26) — Page 493
انوار العلوم جلد 26 493 افتتاحی و اختتامی خط سالانہ 1959ء۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ایک صحابی میاں نظام الدین صاحب ہوا کرتے تھے۔انہوں نے جب شروع شروع میں سنا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کہتے ہیں حضرت عیسی فوت ہو گئے ہیں تو چونکہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پرانے دوستوں میں سے تھے وہ قادیان آئے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے کہنے لگے کہ قرآن کریم سے تو حضرت عیسی علیہ السلام کا زندہ ہونا ثابت ہے آپ یہ کس طرح کہتے ہیں کہ وہ فوت ہو گئے ہیں؟ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا اگر قرآن کریم سے ثابت ہو جائے کہ حضرت عیسی علیہ السلام زندہ ہیں تو میں مان لوں گا۔میاں نظام الدین صاحب کہنے لگے اگر میں سو آیتیں ایسی لا دوں جن سے ثابت ہو کہ حضرت عیسی علیہ السلام زندہ ہیں تو کیا آپ مان لیں گے ؟ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔میاں صاحب ! سو آیت کا کیا سوال ہے آپ ایک آیت بھی لے آئیں تو میں مان لوں گا اور اپنے عقیدہ سے تو بہ کرلوں گا۔میاں نظام الدین صاحب کہنے لگے اچھا اگر سو نہیں تو میں دس آیتیں تو ضرور نکلواؤں گا۔چنانچہ وہ مولوی محمد حسین صاحب کے پاس بٹالہ گئے۔وہاں سے پتا لگا کہ مولوی صاحب لاہور گئے ہوئے ہیں۔چنانچہ وہ لاہور گئے۔اُن دنوں حضرت خلیفہ مسیح الاوّل قادیان آنے کے لئے لاہور آئے ہوئے تھے اور مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے اشتہار دینے شروع کئے تھے کہ میرے ساتھ وفات و حیات مسیح پر مباحثہ کرلو اور شرائط مناظرہ طے ہو رہی تھیں۔حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل فرماتے تھے کہ اپنے دعوی کے ثبوت میں صرف قرآن کریم پیش کیا جائے اور مولوی محمد حسین صاحب کہتے تھے کہ حدیثیں پیش کی جائیں۔آخر حضرت خلیفہ اول نے بحث کو چھوٹا کرنے کے لئے فرمایا چلو بخاری کی احادیث پیش کر دی جائیں۔اس پر مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی بڑے خوش ہوئے اور انہوں نے سمجھا کہ میری فتح ہوئی ہے۔جب میاں نظام الدین صاحب لاہور پہنچے تو مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی اہلحدیث کی مسجد میں اپنے دوستوں میں بیٹھے تھے اور کہہ رہے تھے کہ دیکھو! ایک طرف سے مرزا صاحب کا پہلوان نور الدین نکلا اور دوسری طرف سے اہلحدیث کے پہلوان کے طور پر میں کھڑا ہوا۔میں نے کہا حدیث اُس