انوارالعلوم (جلد 26) — Page 453
انوار العلوم جلد 26 453 سیر روحانی (12) کی ضرورت ہوتی لیکن یہاں یہ صورت نہیں۔یہاں تو ظلمت بھی خدا تعالیٰ کی تعریف کرتی ہے اور ٹور بھی خدا تعالیٰ کی تعریف کرتا ہے۔چنانچہ دوسری جگہ آتا ہے قل ارَيْتُمْ إِنْ جَعَلَ اللهُ عَلَيْكُمُ الَّيْلَ سَرْمَدًا إِلَى يَوْمِ الْقِمَةِ مَنْ اللَّهُ غَيْرُ اللهِ يَأْتِيكُمْ بِضِيَاء أَفَلَا تَسْمَعُوْنَ قُلْ أَرَعَيْتُمْ اِنْ جَعَلَ اللهُ عَلَيْكُمُ النَّهَارَ سَرْمَدًا إلى يَوْمِ الْقِيمَةِ مَنْ الهُ غَيْرُ اللهِ يَأْتِيكُمْ بِلَيْلٍ تَسْكُنُوْنَ فِيْهِ ۖ أَفَلَا تبصرون 74 فرماتا ہے ظلمت اور نور دونوں کا وجود انسان کے لئے ضروری ہے۔نہ نور کے بغیر وہ زندہ رہ سکتا ہے اور نہ ظلمت کے بغیر زندہ رہ سکتا ہے۔انسان دن کو کام کر کے تھک جاتا ہے اور رات کو نیند کے ذریعہ آرام حاصل کر کے پھر تر و تازہ ہو جاتا ہے۔اس لئے اگر خدا تعالیٰ رات کو لمبا کر دیتا تو کوئی انسان کام نہ کر سکتا۔اسی طرح اگر وہ دن کو لمبا کر دیتا تو کوئی شخص آرام نہ کر سکتا۔پس نور اور ظلمت دونوں چیزیں انسانی بقا کے لئے ضروری ہیں اور ان کو دو خداؤں کی پیدائش کہنا غلط ہے۔قرآن کریم میں عِلْمُ الاَخلاق کا ذکر پر علم الاخلاق بھی ایک اہم علم ہے اور اس پر کئی کتابیں لکھی گئی ہیں۔قرآن کریم نے اس علم کی طرف بھی اشارہ کیا ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَلَا تَسُبُوا الَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ فَيَسُبُّوا اللهَ عَدُوا بِغَيْرِ عِلْمٍ 75 یعنی تم اُن معبودوں کو جن کو کفار خدا تعالیٰ کے سوا پکارتے ہیں گالیاں نہ دو۔ورنہ وہ جہالت کی وجہ سے خدا تعالیٰ کو گالیاں دینے لگ جائیں گئے۔اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ کسی قوم کے قابل عزت بزرگوں کے حق میں کوئی بُری بات نہیں کہنی چاہئے ورنہ اُن کے دل دُکھیں گے اور چونکہ وہ اخلاق سے عاری ہیں اس لئے وہ جواب میں اللہ تعالیٰ کو گالیاں دینے لگ جائیں گے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں إِنَّ مِنْ اَكْبَرِ الْكَبَائِرِ أَنْ يَلْعَنَ الرَّجُلُ وَالِدَيْهِ۔قِيْلَ يَا رَسُولَ اللهِ وَكَيْفَ يَلْعَنُ الرَّجُلُ وَالِدَيْهِ؟ قَالَ يَسُبُّ الرَّجُلُ اَبَا الرَّجُلِ فَيَسُبُّ آبَاهُ وَيَسُبُّ اُمَّهُ - 76 یعنی کسی شخص کو نہیں چاہیے کہ وہ اپنے ماں باپ کو گالیاں دے۔صحابہ نے عرض کیا یا رَسُولَ اللہ ! اپنے ماں باپ کو کون گالیاں دیتا ہے؟ آپ نے