انوارالعلوم (جلد 26) — Page 443
انوار العلوم جلد 26 443 سیر روحانی (12) اونچی اونچی عمارتیں بناتے تھے جیسے اہرام مصر ہیں اور جن میں سے ایک ابوالہول شیر کی شکل کا ہے۔آخران بلند عمارتوں کے بنانے کی کوئی وجہ ہونی چاہئے۔وہ وجہ یہی تھی کہ وہ عقیدہ رکھتے تھے کہ مُردوں کی رُوحیں آسمان پر چلی جاتی ہیں اور بعد میں اونچی جگہوں پر اُترتی ہیں۔اور چونکہ نیچی جگہوں میں اُترنے میں دیر لگتی ہے اس لئے وہ لوگ اپنی عمارتوں کو اونچار کھتے تھے اور اس طرح چاہتے تھے کہ اُن کے اسلاف کی رُوحیں دنیا میں اُن کے پاس آتی رہیں۔پھر وہ یہ عقیدہ بھی رکھتے تھے کہ روحیں کھاتی پیتی ہیں۔چنانچہ جب وہ مُردوں کو دفن کرتے تھے تو اُن کی قبروں کے پاس کھانے پینے کا سامان بھی رکھتے تھے اور خیال کرتے تھے کہ جب روحیں زمین پر آتی ہیں تو انہیں یہاں آرام بھی کرنا چاہئے اور سونا بھی چاہئے اور یہ روایت اب تک اُن میں چلی آتی ہے۔چنانچہ پاکستان کا ایک ایمبیسیڈر (AMBASSADOR) وہاں گیا تھا۔اُس نے ہمارے ایک دوست سے بیان کیا کہ مصر میں ہماری ایمبیسی (EMBASSY) کا ایک آدمی مر گیا۔ہم نے مصری حکومت کو لکھا کہ ہمیں ایک قبر کی جگہ دے دیں تو مصری حکومت نے کہا ہم ذرا انتظام کر لیں۔چنانچہ انہوں نے ایک بڑا کمرہ بنایا اُس میں کھانے پینے کا سامان رکھا اور ایک ریڈیو رکھا اور پھر کہا اب آپ اپنے آدمی کی نعش کو دفن کرنے کے لئے لے آئیں۔وہ ایمبیسیڈ رہنس کر کہنے لگا کہ معلوم ہوتا ہے ابھی تک مصریوں پر رُوحوں کا قبضہ ہے۔قرآن کریم میں تربیت کے اصول پھر تربیت کا مضمون ایسا ہے جس پر بڑے بڑے علماء اور فلاسفروں نے بڑی بڑی کتابیں لکھی ہیں کیونکہ تربیت کے بغیر دنیا میں نہ اولا د ترقی کر سکتی ہے اور نہ قوم ترقی کر سکتی ہے۔قرآن کریم نے بھی تربیت کے اصول نہایت عمدگی سے بیان کئے ہیں۔چنانچہ سب سے پہلے اولاد کی تربیت کا سوال آتا ہے۔اولاد کی تربیت کے متعلق قرآن کریم میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بیٹے کا واقعہ آتا ہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خواب میں دکھایا گیا تھا کہ وہ اپنے بیٹے کو ذبح کر رہے ہیں۔اس پر انہوں نے اپنے بیٹے کو حکم نہیں