انوارالعلوم (جلد 26) — Page 440
انوار العلوم جلد 26 440 سیر روحانی (12) قرآن کریم کا اعلان کہ گویا انہوں نے خدا تعالیٰ کے دوبارہ مل جانے پر بڑی خوشی منائی لیکن قرآن کریم کہتا ہے یہ بات بچھڑ ا سامری نے بنایا تھا بالکل غلط ہے کہ حضرت ہارون علیہ السلام نے بچھڑا بنایا تھا۔وہ ہارون نے نہیں بلکہ سامری نے بنایا تھا ورنہ ہارون علیہ السلام نے تو بڑے زور سے اپنی قوم کو شرک سے روکا تھا اور توحید پر قائم رہنے کی تلقین کی تھی۔چنانچہ قرآن کریم میں آتا ہے۔وَلَقَدْ قَالَ لَهُمْ هُرُونَ مِنْ قَبْلُ يُقَوْمِ إِنَّمَا فَتِنْتُمُ بِهِ وَإِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحْمَنُ فَاتَّبِعُونِي وَاَطِيْعُوا أَمْرِى - 46 یعنی حضرت ہارون نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی واپسی سے قبل اپنی قوم سے کہا تھا کہ اے میری قوم! بچھڑے کے ذریعہ تمہیں آزمائش میں ڈالا گیا ہے۔اگر حضرت ہارون علیہ السلام نے خود بچھڑا بنایا ہوتا تو ایسا کیوں کہتے ؟ انہوں نے کہا اِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحْمَنُ فَاتَّبِعُونِي وَاَطِيْعُوا أَمْرِى تمہارا رب | رحمن ہے۔اس بچھڑے نے تمہاری کیا مدد کرنی ہے وہ تو پیدائش سے پہلے بھی تمہاری مدد کرتا رہا ہے۔چنانچہ دیکھ لو انسان بعد میں پیدا ہو ا ہے اور پانی پہلے پیدا ہو چکا تھا۔اسی طرح اور ہزاروں اشیاء ہیں جو پیدائش سے پہلے صفتِ رحمانیت کے ماتحت پیدا ہو چکی تھیں۔پس تم میری اتباع کرو اور میرے حکم کے پیچھے چلو، شرک مت کرو۔انسائیکلو پیڈیا برٹینیکا کا اعتراف حقیقت قرآن کریم میں یہ بیان کردہ حقیقت اتنی واضح ہے کہ انسائیکلو پیڈیا برٹینیکا جس کو انگلستان کے بڑے بڑے عالموں نے مل کر لکھا ہے اُس میں بھی تسلیم کیا گیا ہے کہ ہارون علیہ السلام کے شرک کرنے کا واقعہ غلط ہے اور اس سے مضمون نگا ر استدلال کرتا ہے کہ بائبل میں دوسرے لوگوں نے اور بھی کئی باتیں ملادی ہیں اور کئی واقعات اُن کی طرف سے بڑھا دیئے گئے ہیں۔47 اب دیکھو یہ کتنی عجیب بات ہے کہ قرآن کریم ایک تاریخ بیان کرتا ہے اور یہودیوں اور عیسائیوں کے باپ کو بَری قرار دیتا ہے حالانکہ وہ عیسائی اور یہودی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ( نَعُوذُ بِاللهِ ) کذاب کہتے ہیں۔غرض قرآن کریم ایک گالی دینے والے کے