انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 438 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 438

انوار العلوم جلد 26 438 سیر روحانی (12) کے بیٹے ہونے کی وجہ سے حضرت مسیح علیہ السلام کے دادا تھے۔یا بائبل میں اُن کا صحیفہ شامل ہونے کی وجہ سے وہ بنی اسرائیل کے بزرگ تھے اور وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد آئے تھے لیکن قرآن کریم اُن کی عزت کی حفاظت کرتا ہے اور خود اُن کے اپنے پوتے پڑپوتے انہیں خدا تعالیٰ سے برگشتہ اور بُت پرست قرار دیتے ہیں۔حضرت ہارون علیہ السلام پھر قرآن کریم نے حضرت ہارون علیہ السلام کی عزت کی بھی حفاظت کی۔بائبل میں لکھا ہے کہ جب بائبل کے الزامات حضرت موسیٰ علیہ السلام طور پہاڑ پر تشریف لے گئے اور اُن کے بعد اُن کی قوم نے بچھڑا بنا لیا تو حضرت ہارون علیہ السلام بھی اُن کے اِس فعل میں اُن کے ساتھ شریک ہو گئے تھے۔چنانچہ لکھا ہے :- اور جب لوگوں نے دیکھا کہ موسیٰ نے پہاڑ سے اُترنے میں دیر لگائی تو وہ ہارون کے پاس جمع ہو کر اُس سے کہنے لگے کہ اُٹھ ہمارے لئے دیوتا بنا جو ہمارے آگے آگے چلے کیونکہ ہم نہیں جانتے کہ اس مرد موسیٰ کو جو ہم کو ملک مصر سے نکال کر لایا ، کیا ہو گیا۔ہارون نے اُن سے کہا۔تمہاری بیویوں اور لڑکوں اور لڑکیوں کے کانوں میں جو سونے کی بالیاں ہیں اُن کو اُتار کر میرے پاس لے آؤ۔چنانچہ سب لوگ اُن کے کانوں سے سونے کی بالیاں اُتارا تا ر کر اُن کو ہارون کے پاس لے آئے اور اُس نے اُن کو ان کے ہاتھوں سے لے کر ایک ڈھالا ہوا بچھڑا بنایا جس کی صورت چھینی سے ٹھیک کی۔تب وہ کہنے لگے۔اے اسرائیل ! یہی تیرا وہ دیوتا ہے جو تجھ کو ملک مصر سے نکال کر لے آیا۔44 غرض بائبل کہتی ہے کہ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کو پہاڑ سے آنے میں دیر ہو گئی تو اُن کی قوم حضرت ہارون کے پاس گئی اور کہا کہ موسی ہمیں خدا کی باتیں سنایا کرتا تھا لیکن پتا نہیں وہ کہاں چلا گیا ہے اب ہم خدا کے بغیر رہ گئے ہیں۔تو اُٹھ اور ہمارے لئے خدا بنا جو ہمارے آگے آگے چلے۔