انوارالعلوم (جلد 26) — Page 437
انوار العلوم جلد 26 437 سیر روحانی (12) حضرت سلیمان علیہ السلام اسی طرح بائبل میں حضرت سلیمان علیہ السلام کے متعلق لکھا ہے کہ :- وو پر بائبل کے الزامات " جب سلیمان بوڑھا ہو اتو اس کی جوروں نے ا اُس کے دل کو غیر معبودوں کی طرف مائل کیا اور اُس کا دل خداوند اپنے خدا کی طرف مائل نہ تھا جیسا اس کے باپ داؤد کا دل تھا۔40 پھر لکھا ہے کہ :- اُس کا دل خداوند اسرائیل کے خدا سے جو اُسے دوبار دکھائی دیا برگشتہ ہوا۔اس لیے خداوند سلیمان پر غضبناک ہو ا کہ اُس نے اُسے حکم دیا تھا کہ وہ اجنبی معبودوں کی پیروی نہ کرے پر اُس نے خداوند کے حکم کو یاد نہ رکھا۔41 گویا بائبل حضرت سلیمان علیہ السلام پر یہ الزام لگاتی ہے کہ وہ اپنے خدا سے برگشتہ ہو گئے تھے اور اس طرح انہوں نے کفر کیا تھا۔قرآن کریم کی تردید لیکن قرآن کریم فرماتا ہے کہ جب ملکہ سبا حضرت سلیمان علیہ السلام کے بلانے پر اُن کے پاس آئی تو حضرت سلیمان نے اُسے غیر معبودوں کی عبادت کرنے سے روکا 42 گویا قرآن تو یہ کہتا ہے کہ ملکہ سبا جو اُن کی آخری بیوی تھی اُسے بھی انہوں نے غیر معبودوں کی عبادت کرنے سے روکا لیکن بائبل کہتی ہے کہ وہ اپنی بیویوں کے کہنے پر خداوند تعالیٰ سے برگشتہ ہو گئے تھے۔یہ کتنا بڑا فرق ہے جو بائبل اور قرآن میں پایا جاتا ہے۔- اسی طرح قرآن کریم حضرت سلیمان علیہ السلام کے متعلق فرماتا ہے وَمَا كَفَرَ سُلَيْمَنُ وَلَكِنَّ الشَّيطِيْنَ كَفَرُوا يُعَلِّمُونَ النَّاسَ السّحْرَ 43 یعنی جو لوگ کہتے ہیں کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے بُت پرستی کی تھی اور وہ کافر ہو گئے تھے وہ غلط کہتے ہیں بلکہ در حقیقت ایسا الزام لگانے والے خود کا فر ہیں کیونکہ وہ خدا تعالیٰ کے نبی پر اتنا بڑا اتہام لگاتے ہیں۔پس قرآن کریم نے حضرت سلیمان علیہ السلام کی صحیح تاریخ بیان کر دی ہے حالانکہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دادا نہیں تھے بلکہ حضرت داؤد