انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 433 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 433

انوار العلوم جلد 26 433 سیر روحانی (12) تمہیں کیا ہو گیا کہ تم خدا تعالیٰ کے متعلق یہ خیال کرتے ہو کہ وہ یونہی بغیر حکمت کے کام کرتا ہے حالانکہ وہ ہر کام حکمت کے ساتھ کرتا ہے۔وَقَدْ خَلَقَكُمْ أَزْوَارًا اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ اُس نے تم کو درجہ بدرجہ مختلف تبدیلیوں میں سے گزارتے ہوئے پیدا کیا ہے تا کہ تمہاری پیدائش میں کوئی نقص نہ رہے۔اگر وہ بغیر کسی حکمت کے کام کرتا تو مختلف دوروں میں سے وہ انسان کو کیوں گزارتا۔وہ اُسے یکدم پیدا کر دیتا۔مگر اُس نے انسان کو یکدم پیدا نہیں کیا بلکہ قدم بقدم کئی دوروں میں سے گزارتے ہوئے پیدا کیا ہے۔کبھی اُس پر عدم کا دور تھا، کبھی وہ ایک وجود تو تھا مگر بغیر دماغ کے کبھی نطفہ سے اُس کی پیدائش ہونے لگی اور پھر آخر میں اُس پر وہ دور آیا جبکہ اُس کا دماغ کامل ہو گیا اور وہ صحیح معنوں میں انسان کہلانے لگ گیا۔قرآنی کتب خانہ میں زمین پر قرآن کریم زمین و آسمان کی پیدائش سے متعلق فرمایا ہے أَوَلَمْ يَرَ الَّذِيْنَ كَفَرُوا أَنَّ السَّمَوتِ و آسمان کی پیدائش کا ذکر وَالْأَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَهُمَا وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيْ - 31 یعنی کیا کفار نے یہ نہیں دیکھا کہ آسمان اور زمین دونوں بند تھے پھر ہم نے اُن کو کھول دیا اور ہم نے پانی سے ہر چیز کو زندہ کیا۔یہ آیت بتاتی ہے کہ اب جو سورج، چاند اور زمین الگ الگ ہے پہلے ایک وجود کی شکل میں الگ الگ جُڑے ہوئے تھے، پھر علیحدہ علیحدہ کر دیئے گئے اور سورج ، چاند اور زمین بن گئے اور یہی حقیقت آجکل کے سائنسدان پیش کرتے ہیں۔قرآنی کتب خانہ میں نظام ہائے شمسی کا ذکر اس طرح پہلے عام طور پر یہ سمجھا جاتا تھا کہ صرف ایک نظام شمسی کام کر رہا ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بتایا کہ اللهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَمَوتِ وَ مِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ - 32 یعنی اللہ تعالیٰ وہی ہے جس نے سات آسمان پیدا کئے ہیں اور زمینیں بھی آسمانوں کے عدد کے مطابق پیدا کی ہیں۔عربی میں سَبْعَ کا لفظ مبالغہ کے لئے استعمال ہوتا ہے۔پس اس لفظ کے ذریعہ سے یہ بتایا گیا ہے کہ