انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 418 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 418

انوار العلوم جلد 26 418 سیر روحانی (12) →- مکہ کے مشرک کبھی بھی اپنی شرارتوں سے باز نہیں آ سکتے تھے جب تک ان کے پاس کوئی بڑی دلیل نہ آتی۔لیکن دلیل کئی قسم کی ہوتی ہے۔ایک دلیل وہ ہوتی ہے جو خارجی ہوتی ہے اور ایک دلیل اندرونی ہوتی ہے۔یہ لوگ باہر کی دلیل کو کبھی قبول نہیں کر سکتے تھے اس لئے اُن کے اندر ایک رسول آنا چاہئے تھا اور رسول بھی ایسا آنا چاہئے تھا جو ریفارمر (REFORMER) ہی نہ ہو بلکہ اس کے ساتھ شریعت بھی ہو۔يَتْلُوا صُحُفًا مُطَهَّرَةً اور اُن کو وہ تمام کتب پڑھ کر سُنائے جو اُن کے باپ دادوں کے زمانہ میں نازل ہوئی تھیں مگر اُن میں جو حشو و زوائد پائے جاتے تھے وہ اُن میں سے نکال دے۔فِيْهَا كُتُبُ قَيِّمَةٌ - اور ایسی کتاب پڑھ کر سُنائے جس میں تمام سابقہ کتب کی قائم رہنے والی تعلیمیں موجود ہوں اور پہلی کتابوں میں سے جو باتیں منسوخ ہو گئی ہوں وہ اس میں موجود نہ ہوں تب جا کر اُن کی اصلاح ہو سکتی ہے۔غرض قرآن کریم وہ کتاب ہے جس میں وہ جو منسوخ نہیں تعلیمیں موجود ہے ہوئیں۔کوئی قائم رہنے والی چیز چاہے وہ وید میں ہو، ژند اوستا میں ہو، تو رات میں ہو ایسی نہیں کہ وہ قرآن کریم میں موجود نہ ہو۔اور کوئی سچی یا قائم رہنے والی تعلیم ایسی نہیں جو وید، ژند اوستا، تو رات یا انا جیل میں موجود ہو اور اس میں حشو 4 مل گیا ہو اور اُس کا ازالہ قرآن کریم نے نہ کیا ہو۔یہاں یہ امر بھی یا د رکھنا چاہئے کہ قرآن کریم حجم کے لحاظ سے بہت چھوٹی سی کتاب ہے جو وید اور تورات سے ہی چھوٹی نہیں بلکہ انا جیل سے بھی چھوٹی ہے۔ایسی کتاب کا دعوی کرنا کہ میرے اندر تمام سابقہ کتب موجود ہیں اور اُن کے حشو و زوائد کو میں نے دُور کر دیا ہے بتاتا ہے کہ اس کے اندر تمام سابقہ کتب بالتفصیل موجود نہیں بلکہ اس کا صرف یہ مطلب ہے کہ اس کے اندر تمام اصولوں کو بیان کر دیا گیا ہے۔کیونکہ اگر ساری سابقہ کتب سماوی اور تمام علوم اس کتاب میں بالتفصیل بیان ہوتے تو قرآن اتنی بڑی کتاب ہو جاتی کہ آسمان کی فضا کو بھی بھر دیتی مگر یہ تو جیب میں آجاتی ہے۔بلکہ آج ایک دوست نے مجھے تحفہ بھیجا ہے وہ ایک ٹھپہ ہے جس پر کسی کا ریگر نے ایک ہی طرف سارا قرآن کریم