انوارالعلوم (جلد 26) — Page 417
انوار العلوم جلد 26 417 سیر روحانی (12) نے مجھے آواز بھی دی کہ اب دھوپ تیز ہو گئی ہے واپس آجائیں مگر میں اپنے خیالات میں ہی محور ہا۔آخر میں نے کہا۔میں نے پالیا۔میں نے پالیا۔“ میری لڑکی امتہ القیوم بیگم کہنے لگیں ابا جان! آپ نے کیا پالیا ؟ میں نے کہا میں نے جو پانا تھا وہ پا لیا۔اُس وقت خدا تعالیٰ نے میرے دل میں ڈالا کہ یہ تمام آثار قرآن کریم میں زیادہ شان کے ساتھ موجود ہیں۔تمہیں ان آثار قدیمہ پر افسوس کرنے کی ضرورت نہیں۔قرآن کریم میں جو آثار قدیمہ پائے جاتے ہیں اُن کے سامنے ان آثار قدیمہ کی کچھ بھی وقعت نہیں۔میری لڑکی نے کہا آپ مجھے بھی بتا ئیں کہ آپ نے کیا پا لیا ؟ مگر میں نے کہا میں اس وقت تمہیں نہیں بتاؤں گا جلسہ سالانہ کے موقع پر میں ساری جماعت کو بتاؤں گا وہاں تم بھی سن لینا۔چنانچہ 1938 ء کے جلسہ پر میں نے ”سیر روحانی“ کے موضوع پر پہلا لیکچر دیا تھا اور اب یہ اس سلسلہ کی آخری تقریر ہے۔جب میں نے اس سلسلہء تقاریر کو شروع کیا تو اُس وقت میں جوان تھا اور میری صحت مضبوط تھی مگر اب میں کمزور ہوں اور زیادہ دیر تک بول نہیں سکتا۔مگر بہر حال خدا تعالیٰ نے مجھے جس قدر توفیق دی میں اس مضمون کو مکمل کرنے کی کوشش کروں گا۔آج کی تقریر میں میں اُن کتب خانوں کا ذکر کرنا چاہتا ہوں جو قرآن کریم میں پائے جاتے ہیں کیونکہ اس سفر میں میں نے بادشاہوں کے کتب خانے بھی دیکھے تھے اور میں ان سے بہت متاثر ہو ا تھا۔قرآن کریم کا دعویٰ کہ اُس کے اندر سب سے پہلے میں اس بات کو بیان کرتا ہوں کہ قرآن کریم نے یہ دعویٰ کیا ہے ہر رقسم کے کتب خانے موجود ہیں کہ میرے اندر ہر قسم کے کتب خانے موجود ہیں۔چنانچہ قرآن کریم کی سورۃ البینہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَبِ وَالْمُشْرِكِيْنَ مُنْفَكَيْنَ حَتَّى تَأْتِيَهُمُ الْبَيِّنَةُ ) رَسُولٌ مِنَ اللهِ يَتْلُوا صُحُفًا مُطَهَّرَةً كُ فِيهَا كُتُبُ قَيْمَةٌ 3 یعنی اہل کتاب اور