انوارالعلوم (جلد 26) — Page 416
انوار العلوم جلد 26 416 سیر روحانی (12) ނ ہمیں یہ بھی احساس ہوتا ہے کہ ہمارا بچاؤ ہو۔وہ ڈپٹی کمشنر ہم سے بعد میں بھی تعلق رکھتا رہا۔چنانچہ 1934ء میں احرار کے فتنہ کے وقت جب مجھے نوٹس دیا گیا کہ تم نے باہر سے احمدیوں کو نہیں بلو انا تو چودھری محمد ظفر اللہ خان صاحب نے مجھے سنایا کہ وہ اپنی کوٹھی۔آ رہا تھا کہ اُس نے مجھے دیکھ کر ٹھہر الیا اور کہنے لگا سناؤ قادیان کا کیا حال ہے؟ انہوں نے کہا۔ہمیں سخت افسوس ہے ہم نے اگر کچھ کیا ہوتا اور پھر ہمارے امام کو گورنمنٹ نوٹس دیتی تو کوئی بات تھی لیکن ہم نے تو کچھ بھی نہیں کیا ، ہمارے امام کو کیوں نوٹس دیا گیا ہے؟ اس پر وہ غصہ میں آ گیا اور کہنے لگا میں نہیں جانتا جس جماعت نے چالیس سال گورنمنٹ کی خدمت کی ہے اُس نے اگر کچھ کیا بھی ہوتا تب بھی یہ نوٹس نہیں دینا چاہئے تھا، یہ گورنمنٹ کی غلطی ہے۔بعد میں وہ وائسرائے کے ملٹری سیکرٹری ہو کر چلے گئے اور وہیں سے ریٹائر ہوئے۔غرض اُس زمانہ میں عملی طور پر ہندوؤں کی ہی حکومت تھی۔جب کشمیر میں فسادات ہوئے تو اُس وقت لارڈ ولنگڈن وائسرائے تھے۔میں کشمیر کمیٹی بنانے کے بعد اُن سے ملا تو میں نے اُن سے کہا آپ کشمیر میں دخل کیوں نہیں دیتے ؟ وہ کہنے لگے دخل کیوں دیں؟ آپ نہیں جانتے اگر ہم نے دخل دیا تو کشمیر کا راجہ کتنا ناراض ہوگا ؟ اُس وقت حیدر آباد میں انگریز افسر مقرر تھے میں نے کہا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ہندوؤں کے خیر خواہ ہیں۔حیدر آباد میں جہاں ایک مسلمان حکمران ہے آپ نے انگریز افسر بھجوائے ہوئے ہیں مگر کشمیر میں جہاں ایک ہندو راجہ ہے آپ نے کوئی انگریز افسر نہیں بھجوایا۔اس پر وہ اور باتیں کرنے لگ گئے۔بہر حال گو بھارت کی حکومت حال ہی میں قائم ہوئی ہے لیکن انگریزوں کے زمانہ میں بھی اصل حاکم بھارت ہی تھا اور وہ ہر جگہ قابض تھا۔خدا تعالی کی طرف سے ایک نورانی کرن کا ظہور فرض اس سفر میں ایک طرف تو مسلمانوں کی گزشتہ شان و شوکت کے تمام آثار میری آنکھوں کے سامنے تھے اور دوسری طرف مجھے مسلمانوں کی موجودہ بے کسی اور انتہائی بے بسی دکھائی دے رہی تھی۔میں اِن حالات پر خاموشی سے غور کرنے لگا اور سوچتا رہا اور کافی دیر خاموش کھڑا رہا۔میری ہمشیرہ مبارکہ بیگم