انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 411 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 411

انوار العلوم جلد 26 411 سیر روحانی (12) رکھے اور اُس وقت تک نہ چھوڑے جب تک کہ ہم عدالت کے احاطہ سے باہر نہ نکل جائیں۔مجسٹریٹ نے آپ کو صرف جرمانہ کی سزا دی جو نواب محمد علی خاں صاحب نے مرز ا خدا بخش صاحب مرحوم کے ذریعہ سے فوراً ادا کر دیا۔پھر یہ پروفیسر صاحب لاہور چلے گئے۔وہاں جا کر انہوں نے اپنی طبیعت کے مطابق لوگوں پر کچھ سختی کی تو خواجہ کمال الدین صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس شکایت کی اور کہا کہ پروفیسر صاحب بڑی سختی کرتے ہیں اس سے تو لوگوں میں جوش پیدا ہو جائے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ان کو بلایا اور فرمایا دیکھئے ہمارا یہ مقصد نہیں کہ ہم دوسروں پر سختی کریں بلکہ خدا تعالیٰ نے ہمیں یہ تعلیم دی ہے کہ دوسرے لوگ اگر سختی بھی کریں تو ہم اُن سے نرمی کریں۔وہ چپ کر کے سنتے رہے۔جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام خاموش ہوئے تو وہ کہنے لگے بس بس رہنے دیجئے۔میں یہ بات نہیں مان سکتا۔آپ کے پیر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اگر کوئی گالی دے تو آپ فوراً اُس سے مباہلہ کرنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں لیکن اگر کوئی میرے پیر کو گالی دے تو آپ کہتے ہیں صبر کرو یہ مجھ سے نہیں ہوسکتا۔تو حضرت مسیح موعود ہمیشہ یہ نصیحت فرمایا کرتے تھے کہ دوستوں کو نرمی کا طریق اختیار کرنا چاہئے اور کسی سے سختی نہیں کرنی چاہئے۔“ الفضل 3 جنوری 1959ء)