انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 407 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 407

انوار العلوم جلد 26 407 سیر روحانی (12) میں نے یہ دونوں اعلان الفضل میں شائع کرادیئے۔مگر اس کے بعد معاہدہ کی پہلی سہ ماہی کے آخری حصہ میں ہی پیغامِ صبح میں ہمارے خلاف نہایت سخت اور دل آزار مضامین شائع ہوئے۔دوسری سہ ماہی میں اس سے زیادہ اور تیسری سہ ماہی میں اس سے بھی زیادہ دل آزار مضامین شائع ہونے شروع ہو گئے۔میں نے سید عبدالجبار شاہ صاحب سابق والی سوات کو لکھا تو انہوں نے جواب دیا کہ میں نے پہلے ہی مولوی غلام حسن خان صاحب پشاوری کو لکھ دیا تھا کہ یہ غلطی ہوئی ہے۔اور پھر انہوں نے مل کر مولوی محمد علی صاحب کو توجہ دلائی کہ آپ کا معاہدہ تو ٹوٹ گیا۔مولوی محمد علی صاحب نے کہا یہ مضامین میرے تو نہیں دوسرے لوگوں کے ہیں اور اُن پر میر از دور نہیں چل سکتا۔میں نے کہا اگر یہ بات ہے تو پھر میں بھی اس معاہدہ کی پابندی سے جماعت کو آزاد کرتا ہوں۔لیکن ساتھ ہی میں نے کہا کہ باوجود اس کے کہ اب معاہدہ منسوخ ہو چکا ہے پھر بھی ہمارے اخبار نویسوں کو ان کی ذاتیات کے خلاف لکھنے کی اجازت نہیں ہو گی صرف اصولی باتوں کے متعلق وہ مضامین لکھ سکتے ہیں۔اور اگر کسی نے ان کی ذاتیات کے خلاف کچھ لکھا تو میں اُسے اُسی طرح پکڑوں گا جس طرح معاہدہ کے وقت پکڑتا۔غرض خان بہادر دلاور خان صاحب جیسا کہ میں نے بتایا ہے درمیان میں کچھ کمزور ہو گئے تھے لیکن بعد میں احمدیت پر پختہ ہو گئے۔سر عبد القیوم صاحب جو پیر صاحب کو ٹھے والوں کی اولاد میں سے تھے ان کی بہن کی لڑکی سے خان بہادر خان صاحب بیا ہے گئے تھے ان کے بھائی صاحبزادہ عبداللطیف صاحب چونکہ مبائع احمدی ہو گئے تھے اس لئے سر عبدالقیوم صاحب ان کو اچھا نہیں سمجھتے تھے لیکن اپنی بہن کی بڑی عزت کرتے تھے۔میں ایک دفعہ شملہ گیا ہوا تھا اور ہم اسمبلی ہال کے برآمدہ میں کھڑے تھے کہ وہ آکر میرے پاس کھڑے ہو گئے۔چونکہ وہ ڈپلومیسی کے بڑے عادی تھے اور سیاست کے بہت سے عہدوں پر کام کرتے رہے تھے اور حکومت کی طرف سے سیاسی کاموں کی سرانجام دہی کے لئے انگلستان بھی جاتے رہتے تھے اس لئے میرے پاس آ کر کہنے لگے میاں صاحب! میں آپ سے ایک بات کہنا چاہتا ہوں۔میں نے کہا فرمائیے۔کہنے لگے آپ کو صاحبزادہ عبداللطیف صاحب پر بہت