انوارالعلوم (جلد 26) — Page 389
انوار العلوم جلد 26 389 کسی نیک صورت سے قادیان دلوا دے مگر کراچی کے ایک اخبار نے میری اس تقریر کی غلط رپورٹ شائع کر دی اور لکھا کہ ہم قادیان کو تلوار کے زور سے فتح کرنا چاہتے ہیں۔اور ہائی کمشنر آف انڈیا نے یہ شکایت کی کہ اس سے تو معلوم ہوتا ہے کہ جماعت احمدیہ کے ہندوستان کے متعلق بر ارادے ہیں حالانکہ یہ بات بدیہی طور پر غلط تھی۔تلوار تو ہمارے ہاتھ میں ہے ہی نہیں اس لئے ہم تلوار کے زور سے قادیان کو کس طرح فتح کر سکتے ہیں۔تلوار تو پاکستان کی حکومت کے ہاتھ میں ہے اور وہ ہمارے ماتحت نہیں ہم اس کے ماتحت ہیں۔اس حکومت کے فیصلہ کرنے والے اور لوگ ہیں۔قادیان کے دروازے اگر گھلے تو وہ اللہ تعالیٰ ہی کھولے گا اور خدا تعالیٰ اپنے کام فرشتوں کے ذریعہ کیا کرتا ہے جنہیں نہ تلواروں کی ضرورت ہے اور نہ انسانی مدد کی ضرورت ہے۔جب اللہ تعالیٰ پاکستان پر مہربان ہوگا اور اس پر فضل کرنا چاہے گا تو وہ علاقے جہاں سے لوگ ہجرت کر کے آئے ہیں پاکستان کو دلوا دے گا۔مگر یہ کب ہوگا خدا تعالیٰ کو ہی معلوم ہے۔بہر حال خدا تعالیٰ جلد یا بدیر ہندوستان کی حکومت کو سمجھ دے دے گا کہ وہ ہندوستان کی جماعت احمدیہ کے ساتھ سختی نہ کرے جو بہت پُر امن جماعت ہے۔اور پاکستان کے ساتھ بھی جھگڑا نہ کرے کیونکہ پاکستان زور سے کام نہیں لینا چاہتا بلکہ دلیل اور عقل سے کام لینا چاہتا ہے۔اب میں زراعت کے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں۔غلہ کی زیادتی کا تعلق اتنا سیاست سے نہیں جتنا مذ ہب سے ہے۔ہندوستان اور پاکستان دونوں جگہ غلہ کم پیدا ہورہا ہے اور زرمبادلہ بے حد خرچ ہورہا ہے جس کی وجہ سے دونوں ملک غلہ زیادہ اگاؤ پر زور دے رہے ہیں۔مگر غلہ کے زیادہ ہونے کا تعلق آسمانی تدبیروں سے ہے زمینی تدبیروں سے نہیں۔جماعت احمدیہ کی کثرت چونکہ پاکستان میں ہے اس لئے ہماری جماعت کے زمینداروں کو بھی غلہ زیادہ پیدا کرو“ کی کوشش میں گورنمنٹ کے ساتھ تعاون کرنا چاہئے کیونکہ اگر ملک کی اقتصادی حالت اچھی ہوگی تو جماعت کو بھی اس کا فائدہ پہنچے گا۔مگر جیسا کہ میں نے کہا ہے اس کوشش کا تعلق آسمانی تدبیروں سے زیادہ ہے۔پس ظاہری تدبیر کے علاوہ ہماری جماعت کو دعا سے بھی بہت کام لینا چاہئے تا خدا تعالیٰ ہمارے ملک پر رحم کرے اور اپنے -۔