انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 388 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 388

انوار العلوم جلد 26 388 آپ ساتھ آجائیں تو وہ بادشاہ کے پاس رحم کی درخواست کرے گا۔لیکن آپ نے فرمایا تم جاؤ اور میں نے جو کچھ کہا ہے وہ گورنر تک پہنچا دو۔چنانچہ وہ لوگ واپس چلے گئے اور انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام گورنر یمن تک پہنچا دیا۔وہ عقلمند آدمی تھا اس نے جب یہ جواب سنا تو کہنے لگا اگر یہ بات درست ثابت ہوئی تو یقیناً وہ خدا تعالیٰ کا سچا نبی ہے۔اور اگر اس نے یہ بات اپنے پاس سے کہی ہے تو پھر خدا ہی عرب پر رحم کرے۔میں کچھ دیر انتظار کروں گا اور ایران کی تازہ خبروں کو دیکھ کر فیصلہ کروں گا۔گورنر کا دربار سمندر کے سامنے تھا۔چند دنوں کے بعد ایران کا ایک جہاز آیا اور یمن کے ساحل پر اس نے لنگر ڈال دیا۔اس جہاز سے ایک افسر اتر کر آیا اور اس نے گورنر کو بادشاہ ایران کا ایک خط دیا۔گورنر نے جب اُس حکم نامہ کو دیکھا تو لفافہ پر ایک نئے بادشاہ کی مہر تھی پرانے بادشاہ کی مہر نہیں تھی۔اُس نے سفیروں کی طرف دیکھ کر کہا مدینہ والا آدمی سچا نبی معلوم ہوتا ہے۔لفافہ پر دوسرے بادشاہ کی مہر ہے۔یہ کہہ کر اس نے لفافہ کھولا۔اس میں ایران کے نئے بادشاہ کا حکم نامہ تھا اور اس میں لکھا تھا کہ ہمارا باپ چونکہ سخت ظالم تھا اس لئے آج رات ہم نے اسے مار دیا ہے اور خود با دشاہ بن گئے ہیں۔اس لئے اب تم ہماری اطاعت کا اپنے افسروں سے اقرار لو۔اور یہ بھی یا درکھو کہ ہمارے باپ نے تمہیں حکم دیا تھا کہ مدینہ کے مدعی نبوت کو گرفتار کر کے میرے پاس بھجوا دو۔میں اس ظالمانہ حکم کو بھی منسوخ کرتا ہوں !۔اب مدینہ کے مدعی کو کچھ نہ کہو۔گورنر یمن پر اس کا ایسا اثر ہوا کہ وہ فوراً ایمان لے آیا اور اس پر ایسی پختگی سے قائم رہا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد جب عرب میں ارتداد پھیلا اور یمن کے علاقہ میں بھی اس کا اثر پہنچا تو اس گورنر نے بڑے اخلاص سے ارتداد کا مقابلہ کیا اور حضرت ابوبکر کی بیعت کر لی۔اُس زمانہ میں ایران کی حکومت امریکہ کی موجودہ حکومت سے زیادہ طاقت ور تھی لیکن خدا تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کو سنا اور ایران کے بادشاہ کو اس کے بیٹے کے ہاتھوں مروا دیا اور بتا دیا کہ سب طاقتوں سے بڑی طاقت میں ہوں۔پچھلے سال جلسہ سالانہ پر میں نے تحریک کی تھی کہ دوست دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں