انوارالعلوم (جلد 26) — Page 387
انوار العلوم جلد 26 387 مارا جانا عزت کی بات ہوتی ہے ذلت نہیں ہوتی قرآن کے ذریعہ مقابلہ کرنا ہی سب سے بڑا ہتھیار ہے۔تلوار اور بندوق قرآن کریم کے مقابلہ میں کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔جس کے ساتھ قرآن ہے اس کے ساتھ سب کچھ ہے۔اور جس کے ساتھ قرآن نہیں ساری دنیا کے توپ خانے ، ہوائی جہاز اور گولہ بارود بھی اُس کے پاس موجود ہوں تو اُسے کوئی فائدہ نہیں دے سکتے۔جس کے پاس قرآن کریم ہے اور جس کے پاس خدا ہے اُسے دنیا کے کسی توپ خانے ، ہوائی جہاز ، بندوقوں اور تلواروں کی ضرورت نہیں کیونکہ دنیوی توپ خانے ، بندوقیں اور تلوار میں خدا تعالیٰ کا مقابلہ نہیں کر سکتیں۔اس زمانہ میں ہوائی جہاز ، تو ہیں اور بندوقیں ہیں لیکن کسی زمانہ میں صرف تلوار اور نیزہ سے ہی کام لیا جاتا تھا اور سپاہیوں کی کثرت اور تنظیم کے ساتھ دنیا پر حکومت کی جاتی تھی۔اُس زمانہ میں ایران کے ایک بادشاہ کو مدینہ کے یہودیوں نے ورغلایا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مذہب پھیلتا جا رہا ہے اور یہ عربوں کو اُکسا کر ان پر حملہ کرنا چاہتا ہے۔اس سے وہ دھوکا میں آ گیا اور اس نے یمن کے گورنر کو لکھا کہ تم کچھ آدمی مدینہ بھیج کر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گرفتار کر کے میرے پاس بھیج دو۔گورنر نے کچھ آدمی مدینہ بھیجے کہ وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ساتھ لے آئیں۔وہ آدمی وہاں گئے تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گورنر یمن کا پیغام دے دیا۔آپ نے فرمایا ابھی کچھ ٹھہر وہم پھر جواب دیں گے۔چنانچہ تین دن آپ خدا تعالیٰ سے دعائیں کرتے رہے اور ان سپاہیوں کو ٹلاتے رہے۔تیسرے دن سفیروں نے جواب پر پھر اصرار کیا۔اُس وقت تک آپ پر وحی نازل ہو چکی تھی اور حقیقت حال بتائی جا چکی تھی۔آپ گھر سے باہر نکلے اور سفیروں کو بلایا اور فرمایا جاؤ اور اپنے گورنر سے کہہ دو کہ میرے خدا نے مجھے بتایا ہے کہ اُس نے آج رات ایران کے بادشاہ کو مروا دیا ہے۔جب گورنر یمن کے سفیروں نے یہ بات سنی تو انہوں نے نادانی سے یہ سمجھا کہ انہیں پتا نہیں ایران کے بادشاہ کی کیا حیثیت ہے۔اگر اس کو یہ جواب پہنچا تو وہ سارے عرب کی اینٹ سے اینٹ بجا دے گا اس لئے انہوں نے کہا آپ اپنے آپ پر، اپنے قبیلہ پر اور اپنے ملک پر رحم کریں۔گورنر نے وعدہ کیا ہے کہ اگر بغیر مزاحمت کے