انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 385 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 385

انوار العلوم جلد 26 385 لئے میں نے مبلغ کو تاکید کی تھی کہ سنہالیز زبان میں لٹریچر شائع کیا جائے۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اصل باشندے تو ہماری تائید میں ہو گئے مگر تامل بولنے والے ہندوستانی جو اکثریت میں ہیں ہمارے خلاف ہو گئے اب پیغام آیا ہے کہ دوست دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ یہاں کی مشکلات دور کرے اور جماعت کو مسجد بنانے کی توفیق دے۔اس امر کا ذکر کر دینا بھی ضروری معلوم ہوتا ہے کہ قادیان جانے میں پاکستانی احمدیوں کے لئے بڑی مشکلات ہیں۔پہلے جلسہ سالانہ کے موقع پر کئی کئی سو آدمی قادیان چلا جاتا تھا لیکن چند سال سے ہندوستان کی حکومت نے ویزا دینے سے انکار کر دیا ہے۔چنانچہ اس سال بھی احمدی وہاں نہیں جا سکے۔مگر حال ہی میں ہندوستان کی حکومت نے پاکستانی حکومت کی وساطت سے لکھا ہے کہ اب وہ ویزا دینے کے لئے تیار ہے۔چونکہ قادیان کا جلسہ سالانہ اب گزر چکا ہے اس لئے حکومت ہندوستان کے ویزا دینے سے اب کوئی فائدہ نہیں ہوسکتا۔ہندوستان کی اس تنگ دلی پر ہمیں بہت افسوس ہے۔اس سال پاکستان گورنمنٹ نے سینکڑوں سکھوں کو ویزا دیا تھا اور وہ ننگا نہ دیکھ کر گئے ہیں۔اسی طرح اگر ہر سال جلسہ سالانہ پر احمدی قادیان جائیں تو ہندوستان کی 45 کروڑ آبادی کی حکومت ہے اُس کا وہ نقصان ہی کیا کر سکتے ہیں بلکہ قادیان کی اردگرد کی سکھ آبادی احمدیوں کی تائید میں ہے۔اگر علاقہ کے لوگ احمدیوں سے کوئی خطرہ محسوس نہیں کرتے تو حکومت با وجود اتنی بڑی ہونے کے کیوں محسوس کرتی ہے۔ایک سکھ نے جو بڑا اثر رکھتا ہے اور وہ کانگرس کا بھی ممبر رہ چکا ہے لکھا ہے کہ میں کوشش کر رہا ہوں کہ جلسہ کے موقع پر مجھے پاکستان آنے کی اجازت مل جائے۔اگر میں پاکستان آیا تو ربوہ آنے کی کوشش کروں گا۔وہ اپنی قوم میں بھی اور کانگرس میں بھی بااثر آدمی ہے۔اگر اللہ تعالیٰ اس کا دل کھول دے تو ممکن ہے کہ وہ کوشش کر کے احمدیوں کے متعلق حکومت کے رویہ کو بدل دے۔احمدی جماعت سیاسی جماعت کبھی نہیں ہوئی۔وہ ساری دنیا میں صرف مذہبی کام کرتی ہے۔زیادہ تر احمدی پاکستان میں رہتے ہیں مگر یہاں بھی کبھی اس نے کسی سیاسی پارٹی سے تعلقات قائم نہیں کئے۔انہیں صرف اپنے اصول کے مطابق حکومت سے تعاون کرنا آتا ہے۔