انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 379 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 379

انوار العلوم جلد 26 379 نے ایک اور سامان پیدا کر دیا۔اور وہ یہ کہ برٹش بور نیو میں ہمارے ایک نہایت مخلص دوست ڈاکٹر بدرالدین صاحب کام کر رہے ہیں وہ خان صاحب مولوی فرزند علی صاحب کے بڑے لڑکے ہیں اور احمدیت کے عاشق صادق ہیں۔چندہ بھی بڑا دیتے ہیں اور تبلیغ بھی بڑی کرتے ہیں ان میں قربانی کا بڑا جوش ہے۔وہ اب بھی یورپ کے ملکوں کو سوسو پونڈ بھجوا دیتے ہیں تا کہ وہاں مساجد تعمیر کی جائیں اور مبلغوں کو اخراجات مہیا کئے جائیں۔باوجود اس کے کہ وہاں کے انگریز گورنر نے علماء سے مل کر احمدیوں کے خلاف ایک بڑا محاذ کھڑا کر دیا تھا ڈاکٹر صاحب نے دلیری سے گورنر اور دوسرے لوگوں کا مقابلہ کیا اور اس علاقہ کے بعض لوگوں کو جہاں گورنر چاہتا تھا کہ احمدیت نہ پھیلے اپنے پاس بلا کر تبلیغ کی۔خدا تعالیٰ نے ان کی تبلیغ میں برکت ڈالی اور اس کے نتیجہ میں وہاں کے کچھ لوگ احمدی ہو گئے جن کی معرفت انہوں نے اس علاقہ میں مسجد اور جماعت بنانے کی کوشش کی۔ایک علاقہ کے ڈپٹی کمشنر نے ہمارے ایک مبلغ محمد سعید انصاری کو جو یہاں سے گئے ہوئے ہیں اپنے علاقہ میں تبلیغ سے باز رکھنے کی کوشش کی اور انہیں دھمکی دی کہ میں تمہیں گرفتار کرلوں گا ہم نے انگلستان کی حکومت سے احتجاج کیا۔چونکہ اُس ملک میں ظاہری طور پر رواداری بہت ہے اس لئے وہاں کی حکومت نے گورنر سے جواب طلب کیا اور دریافت کیا کہ احمدی مبلغ کے رستہ میں کیوں روکیں پیدا کی جا رہی ہیں؟ گورنر نے عام قاعدہ کے مطابق ڈپٹی کمشنر سے رپورٹ مانگی اور چونکہ اُس نے خود غلطی کی تھی اس لئے لازماً اُس نے اپنے بچاؤ کے لئے جھوٹ بولا۔کہہ دیا کہ میں نے انصاری صاحب کو تبلیغ سے نہیں روکا بلکہ انصاری صاحب نے ملک میں بغاوت پھیلانے کی کوشش کی تھی اور میری ہتک کی تھی اس لئے میں نے انہیں تنبیہہ کی ہے۔انگریزی دستور کے مطابق گورنر نے اس جواب کو صحیح تسلیم کیا اور وہ جواب انگلستان کی حکومت کو بھجوا دیا۔اس پر حکومت انگلستان نے ہمارے پاس معذرت کر دی۔ہم نے اپنے مبلغ کو سمجھا دیا کہ حکومت کے افسروں سے نرمی سے برتاؤ کرنا چاہئے کیونکہ آخر اختیار اُن کے پاس ہے۔اس وجہ سے اس علاقہ میں کچھ نرمی تو ہوئی مگر ہمارے مبلغ کو تبلیغ میں بہت سی وقتیں پیش آ گئیں۔لیکن ہم نے صبر سے