انوارالعلوم (جلد 26) — Page 378
انوار العلوم جلد 26 378 میں سے ایک روپیہ نکال کر اس شخص کو دیا اور فرمایا کہ اب آپ ٹکٹ لے کر جائیں کیونکہ گورنمنٹ کی چوری بھی ویسی ہی ہے جیسے کسی فرد کی چوری۔آپ سمجھتے ہوں گے کہ گورنمنٹ بڑی مالدار ہے اگر میں نے اس کی چوری کر لی تو کیا ہوا۔لیکن کسی غریب آدمی کی چوری کرنا اور گورنمنٹ کی چوری کرنا خدا تعالیٰ کے نزدیک دونوں برابر ہیں۔اب یہ روپیہ لیں اور جاتی دفعہ اس کا ٹکٹ خرید لینا۔میں ہر سال جماعت کی تبلیغی سرگرمیوں کے کچھ نہ کچھ واقعات بیان کیا کرتا ہوں۔اس سال فلپائن میں خدا تعالیٰ نے ہمیں ایک جماعت دے دی ہے۔یہ وہ علاقہ ہے جس میں حضرت عثمان کے زمانہ میں مسلمان پہنچے۔بعد میں جب اسے سپین اور پرتگال نے فتح کیا تو انہوں نے ملک کو جبراً عیسائی بنا لیا اور تلوار میں گردنوں پر رکھ کر کہا کہ جو شخص بپتسمہ نہیں لے گا ہم اُسے قتل کر دیں گے۔چنانچہ لوگ ڈر گئے اور انہوں نے عیسائیت اختیار کر لی۔اب سارا ملک عیسائی ہے۔چین اور پرتگال کی طرح فلپائن کے عیسائی بھی رومن کیتھولک ہیں جو بہت متعصب ہوتے ہیں۔میری خواہش تھی کہ سپین اور فلپائن میں دوبارہ اسلام کی اشاعت کی جائے۔میں نے تحریک جدید کو جس کے سپر د غیر ملکوں میں تبلیغ کا کام ہے توجہ دلائی اور انہوں نے پچھلے سال کے شروع سے ہی فلپائن میں تبلیغ شروع کر دی۔فلپائن کی گورنمنٹ کیونکہ رومن کیتھولک پادریوں کے ماتحت ہے اس لئے اس کی طرف سے تبلیغ میں روکیں ڈالی گئیں اور ہمارے مبلغ کو وہاں جانے کی اجازت نہ دی گئی۔قاعدہ یہ ہے کہ جس حکومت سے کوئی شخص باہر جائے پاسپورٹ وہ دیتی ہے۔اور جس حکومت میں جانا ہو اگر اس کے ساتھ کوئی معاہدہ نہ ہو کہ اس ملک میں ویزہ کی ضرورت نہیں تو جانے والے کو علاوہ اپنے ملک سے پاسپورٹ لینے کے اُس ملک کا ویزہ بھی لینا پڑتا ہے لیکن فلپائن گورنمنٹ ویزہ دینے سے انکار کر دیتی تھی۔نتیجہ یہ ہوتا تھا کہ ہمارے آدمی وہاں نہیں پہنچ سکتے تھے۔چونکہ بیرونی ممالک کی تبلیغ کا کام تحریک جدید کے سپر د ہے اس لئے انہوں نے اس طرف توجہ کی اور فلپائن میں لٹریچر بھیجنا شروع کر دیا اور اس کے ذریعہ بعض لوگوں کے دلوں میں احمدیت سے دلچسپی پیدا ہو گئی۔جب اس طرح میدان کچھ ہموار ہو گیا تو اللہ تعالیٰ