انوارالعلوم (جلد 26) — Page 377
انوار العلوم جلد 26 377 روزانہ دینا پڑتا ہے اور اتنی رقم بہت سے لوگ آسانی سے مہیا کر سکتے ہیں۔لیکن مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بعض مقامی ایجنٹس الفضل کے ساتھ دیانت دارانہ برتاؤ نہیں کرتے رہے۔یہ بات ہماری جماعت کے اصول کے خلاف ہے۔ہماری جماعت ہمیشہ دیانت میں اول درجہ پر رہی ہے۔میں نے پہلے بھی کئی بار قصہ سنایا ہے کہ چنیوٹ کے علاقہ کا ایک غریب آدمی تھا اب تو وہ فوت ہو گیا ہے۔جب وہ احمدی ہوا تو اُس کے رشتہ دار جو چوری کے عادی تھے ایک دفعہ بھینس چرا کر لائے۔بھینس اندر بندھی ہوئی تھی۔بھینس کے مالک کھوج لگاتے ہوئے آئے اور ان سے کہنے لگے ہمیں ہماری بھینس واپس دے دو۔اس کے باپ اور بھائیوں نے کہا ہم آپ کی بھینس چرا کر نہیں لائے۔بھینس کے مالکوں نے کہا کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے بھینس کا کھوج تمہارے گھر تک آیا ہے۔لیکن چوروں نے پھر بھی انکار کیا اور کہا ہم قسم کھا کر کہتے ہیں کہ ہم نے تمہاری بھینس نہیں چرائی۔مالکوں نے کہا ہمیں تمہاری قسم کا اعتبار نہیں۔مغلا احمدی ہے وہ اگر کہہ دے کہ تم ہماری بھینس نہیں لائے تو ہم واپس چلے جائیں گے۔مغلا کے باپ اور بھائی اُسے اندر لے گئے اور وہاں جا کر اسے خوب مارا اور کہا تم باہر جا کر کہہ دو کہ ہمارے پاس بھینس نہیں۔لیکن اس نے کہا بھینس اندر بندھی ہے پھر میں کیسے کہہ دوں کہ تم بھینس چرا کر نہیں لائے۔انہوں نے اسے پھر مارا اور کہا کہ تمہارا کیا حرج ہے تم کہہ دو کہ ہمارے پاس بھینس نہیں۔اور سمجھا کہ اب مارکھا کر وہ ہمارے منشاء کے مطابق گواہی دے دے گا۔لیکن جب وہ اسے باہر لائے اور کہا بتاؤ کیا ہم ان کی بھینس چرا کر لائے ہیں؟ تو اُس نے کہا ہاں وہ اندر کھڑی ہے۔غرض احمدیوں کی دیانت دیر سے مشہور چلی آئی ہے مگر الفضل کے بعض ایجنٹوں نے اس پر دھبہ لگا دیا ہے۔مجھے یاد ہے ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ملنے کے لئے ایک شخص آیا اور لوگوں نے کہا حضور ! یہ شخص بڑا مخلص ہے اس کے پاس آنے کا کرایہ نہیں تھا مگر پھر بھی یہ اپنے شوق کی وجہ سے بغیر ٹکٹ کے ہی آ گیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنی پگڑی میں روپے باندھا کرتے تھے آپ نے جھٹ اپنی پگڑی کا کنارہ کھولا اور اُس