انوارالعلوم (جلد 26) — Page 376
انوار العلوم جلد 26 376 نزدیک قرآن کریم کی اشاعت میں حصہ لینے والوں میں شامل ہو کر ثواب کے مستحق ہوں گے یہ دونوں چلدیں الشرکۃ الاسلامیہ نے شائع کی ہیں جس میں جماعت کے دوستوں کا روپیہ لگا ہوا ہے۔اب تک یہ کمپنی نفع پیدا نہیں کر سکی مگر امید ہے کہ آہستہ آہستہ دوستوں کی کوشش سے نفع آنے لگ جائے گا۔بعض پرانی تفسیر میں بھی ابھی تک موجود ہیں یعنی اُن کی بعض کا پیاں ابھی قابلِ فروخت ہیں وہ بھی دوست وہاں سے لے سکتے ہیں۔اس سال سلسلہ کی تاریخ جو 1880 ء تک کی ہے شائع ہو چکی ہے۔میں نے بیماری کے باوجود اس کو ایک نشست میں ختم کرنے کی کوشش کی ہے۔میری خواہش تھی کہ اب تک کی ساری تاریخ احمدیت چھپ جاتی لیکن ابھی صرف 1880ء تک کی تاریخ چھپی ہے۔دوست اس سے فائدہ اٹھا ئیں۔یہ کام سلسلہ کے چندہ سے ہی کیا گیا ہے۔اس کے بعد میں جماعت کے دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خواہش تھی کہ ریویو آف ریلیجنز دس ہزار کی تعداد میں شائع ہوا کرے لیکن اب تک با وجود پوری کوشش کے اس کی قریباً ایک ہزار کی اشاعت ہوئی ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ با وجود صدرانجمن احمد یہ اور تحریک جدید کی اعانت کے اس کا اتنی کم تعداد میں شائع ہونا اس کے عملہ کی غفلت کی علامت ہے۔میں آئندہ سال کے لئے مولوی جلال الدین صاحب شمس اور چودھری ظہور احمد صاحب آڈیٹر صدر انجمن احمدیہ کی کمیٹی مقرر کرتا ہوں کہ وہ ہر ماہ میرے پاس رپورٹ کیا کریں کہ ریویو آف ریلیجنز کی ترقی کے لئے کیا کوشش کی جا رہی ہے۔سلسلہ کے آرگن الفضل کے متعلق بھی میں ہمیشہ توجہ دلاتا رہا ہوں۔خدا تعالیٰ کے فضل سے اس نے بہت ترقی کی ہے۔لیکن اس کے باوجود اب بھی اس کی اشاعت اتنی نہیں ہوئی جتنی ہونی چاہئے۔جماعت کی تعداد خدا تعالیٰ کے فضل سے پندرہ لاکھ سے بھی او پر چلی گئی ہے مگر ابھی تک الفضل کی اشاعت تین ہزار کے قریب ہی ہے حالانکہ چاہئے تھا آہستہ آہستہ یہ تعداد بہت بڑھ جاتی۔بڑی مشکل یہ ہے کہ ہر غریب آدمی سالانہ قیمت اکٹھی نہیں دے سکتا۔اس کے لئے جو مقامی ایجنٹ ہوتے ہیں وہ بڑی مدد دیتے ہیں۔ڈیڑھ آنہ