انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 375 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 375

انوار العلوم جلد 26 375 بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ متفرق امور خطاب فرموده جلسہ سالانہ 27 دسمبر 1958ء بمقام ربوہ ) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا، گومیری طبیعت اس دفعہ علیل ہے اور میں بہت زیادہ کمزور ہو گیا ہوں لیکن اس کے باوجود سابق طریق کے مطابق میں نے اپنی دو تقریر میں اس جلسہ کے موقع پر رکھی ہیں۔ایک 27 دسمبر کی جو عام باتوں پر مشتمل ہوتی ہے اور دوسری 28 دسمبر کی جو سیر روحانی کی آخری کڑی ہے۔اگر اللہ تعالیٰ نے زندہ رکھا اور اُس نے توفیق دی تو کل وہ بیان ہو جائے گی۔پچھلے سال قرآن کریم کی تفسیر صغیر میں نے لکھی تھی تفسیر تو مکمل ہو گئی مگر اس کی وجہ سے جو محنت مجھے کرنی پڑی اس سے صحت بہت گر گئی۔چنانچہ برابر ڈیڑھ سال سے میں بیمار چلا آتا ہوں۔اب تو چلنا پھرنا بھی دوبھر ہو گیا ہے۔یہ تفسیر ایک بہت بڑا ذریعہ لوگوں پر حق کھولنے کا ہو رہی ہے۔کثرت سے غیر احمدیوں کے خطوط آ رہے ہیں جو تفسیر مانگتے ہیں یا اس کے پڑھنے پر تعریف کرتے ہیں۔اس سال میں نے تفسیر کبیر کی دو جلدیں لکھوائی ہیں۔درحقیقت اصل مصالحہ تو میری صحت کے زمانہ کا لکھا ہوا میرے قرآن کے حاشیہ پر موجود تھا مگر نظر ثانی کے وقت میں نے اصلاح کر دی اور مضمون کو بڑھا دیا۔دوستوں کو اس سے بھی فائدہ اٹھانا چاہئے۔میں اس کوشش میں ہوں کہ تفسیر کبیر کے باقی حصے بھی مکمل ہو جائیں لیکن چونکہ وہ لمبی تفسیر ہے اور میری صحت کمزور ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے تفسیر صغیرلکھوا دی تا کہ قرآن کریم کی مکمل تفسیر ہو جائے۔بہر حال جو دوست تفسیر کبیر کی اشاعت میں حصہ لیں گے وہ اللہ تعالیٰ کے