انوارالعلوم (جلد 26) — Page 359
انوار العلوم جلد 26 359 مجلس انصار اللہ مرکزیہ کے سالانہ اجتماع سے خطاب کی کا نہیں نکل آئی ہیں اور ہزاروں ہزار پونڈ انہیں بطور نفع مل جاتا ہے۔اگر ہمارے مبلغ ان میں تحریک جاری رکھیں اور وہ مساجد بنانے کی ذمہ داری اپنے اوپر لے لیں یا کم سے کم دو دو تین تین مسجد میں مشرقی اور مغربی افریقہ والے بنادیں تو پاکستان کی پونڈ جمع کرنے کی وقت دور ہو جاتی ہے۔کیونکہ ان ملکوں میں پونڈ کثرت سے پایا جاتا ہے لیکن ہمارے ملک میں پونڈ کثرت سے نہیں پایا جاتا۔ہمارے ملک کی جو چیزیں ہیں اُن کے بیچنے کے لئے۔انہیں دوسری قوموں کا مقابلہ کرنا پڑتا ہے مگر بعض غیر ملکوں میں جن میں پونڈ پایا جاتا ہے ایسی چیزیں ہیں جن کا کوئی مقابلہ نہیں۔مثلاً مغربی افریقہ میں سارا پونڈ ہیروں اور سونے کے ذریعہ سے آتا ہے اور ہیروں اور سونے میں کوئی اور قوم ان کا مقابلہ نہیں کرتی اس لئے لازماً ان کے پاس بہت سا پونڈ بچ جاتا ہے اور اس سے ہمیں مددمل سکتی ہے۔پھر ہماری جماعت فلپائن میں بھی پیدا ہوگئی ہے اور ترقی کر رہی ہے۔اگر چہ وہ ترقی آہستہ آہستہ ہو رہی ہے لیکن بہر حال ہو رہی ہے۔پچھلے سال وہاں سے بیعت کا ایک خط آیا مجھے افسوس ہے کہ وہ گھر میں پڑا رہا۔میں تو بیماری کی وجہ سے خط نہیں پڑھ سکتا اس لئے وہ کہیں پڑا رہا۔اب کہ وہ خط نکلا تو معلوم ہوا کہ وہ بیعت ایک گورنر کی تھی مگر ادھر خط ملا اور اُدھر معلوم ہوا کہ وہ بیچارا قتل بھی ہو گیا ہے۔اب اس کے خط کے ملنے کا یہی فائدہ ہوا ہے کہ وکیل التبشیر نے کہا ہے کہ ہم اُس کے بیوی بچوں کو ہمدردی کا خط لکھ دیتے ہیں۔پہلے ہم سمجھتے تھے کہ گورنر کہاں سے آ گیا کوئی ڈپٹی کمشنر ہو گا۔مگر اب وہاں سے جو طالبعلم آیا ہوا ہے اس نے کہا ہے کہ ہمارے ہاں بڑے بڑے جزیرے ہیں اُن جزیروں پر گورنر مقرر ہوتا ہے ، ڈپٹی کمشنر نہیں ہوتا۔اس نے بتایا کہ بیعت کا خط لکھنے والا گورنر ہی تھا مگر وہ تو اب شہید ہو گیا ہے اب اُس کی جگہ ایک نائب گورنر نے بیعت کر لی ہے۔تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس علاقہ میں بھی ترقی ہوئی ہے۔اگر خدا تعالیٰ چاہے تو امریکہ اور فلپائن وغیرہ علاقوں میں جماعت کو اور بھی ترقی ہو جائے گی اور اس طرح ڈالر کی آسانی ہو جائے گی۔امریکہ میں تبلیغ کا یہ اثر بھی ہے کہ دوسرے کئی ملکوں میں بھی ہماری تبلیغ کا اچھا اثر پڑ رہا ہے۔چنانچہ مولوی نور الحق صاحب انور جو حال ہی میں امریکہ سے آئے ہیں انہوں نے