انوارالعلوم (جلد 26) — Page 347
انوار العلوم جلد 26 نے فرمایا۔347 سیر روحانی (11) لُفَاظَاتُ الْمَوَائِدِ كَانَ أُكُلِي وَصِرُتُ الْيَوْمَ مِطْعَامَ الْاهَالِي 37 کہ اے لوگو! میری حالت پر غور کرو۔کبھی تو ایسا تھا کہ میری بھاوج گھر کے بچے ہوئے ٹکڑے مجھے بھیجا کرتی تھی لیکن قرآنی لنگر کی برکتوں کی وجہ سے آج بہت سے خاندان میرے ذریعہ سے پل رہے ہیں۔اس میں اشارہ ہے اُن مہاجرین کی طرف جو اپنا وطن چھوڑ کر قادیان آگئے تھے۔یا جو آج اپنا وطن چھوڑ کر سینکڑوں مہاجروں کی صورت میں یہاں بس رہے ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا قائم کردہ لنگر اُن کو پال رہا ہے۔غرض آج بھی وہی قرآنی لنگر جاری ہے اور آپ لوگ سارا سال بھی اور جلسہ کے دنوں میں بھی اس قرآنی لنگر سے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ سے جاری ہو اتھا فائدہ اُٹھا رہے ہیں۔وہ مسیح موعود جو ہزاروں ایکڑ زمین اور چھ گاؤں کا واحد مالک ہونے کے باوجود آپ لوگوں کی خاطر غریب بن گیا تھا تا کہ قرآنی لنگر کی کوئی روٹی آپ کے لئے بھی لے آوے آپ کے لئے بڑا بھاری نمونہ ہے۔اگر آپ اس زندگی پر غور کریں تو یقیناً آپ نہایت آسانی کے ساتھ ولی اللہ بن سکتے ہیں۔کفار کو بھی اپنا لنگر جاری کرنے کی ہدایت پھر قرآن کریم نے اس لنگر کو اتنا وسیع کر دیا ہے کہ کفار کو بھی دعوت دی ہے کہ اس لنگر کو جاری رکھیں ورنہ انہیں سزا سے ڈرایا ہے۔چنانچہ سورۃ الماعون میں آتا ہے آرَعَيْتَ الَّذِي يُكَذِّبُ بِالدِّينِ فَذَلِكَ الَّذِى يَدُعُ اليَتِيمَن وَلَا يَحُضُ عَلَى طَعَامِ الْمِسْكِينِ فَوَيْلٌ لِلْمُصَلِّينَ الَّذِينَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ ، ) الَّذِينَ هُمْ يُرَارُوْنَ وَيَمْنَعُونَ الْمَاعُونَ & 38 یعنی کیا تجھے اس شخص کا حال معلوم نہیں جو دینِ اسلام کے احکام کو جھٹلاتا ہے۔یہی وہ شخص ہے جو یتیم کو دھکے دے کر اپنے گھر سے نکال دیتا ہے۔یعنی ڈرتا ہے کہ کہیں یتیم کو کھانے میں سے کچھ حصہ نہ دینا پڑے اور اُسے اپنے لنگر سے محروم رکھنا چاہتا ہے۔اور نہ صرف آپ قیموں کو کھانے سے ا