انوارالعلوم (جلد 26) — Page 343
انوار العلوم جلد 26 343 سیر روحانی (11) سارا سال بھی لنگر جاری رہتا ہے۔پس مبارک ہو کہ آپ سب لوگوں کو اس موعود لنگر سے فائدہ اُٹھانے کا موقع ملا ہے۔مجھے یاد ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وقت میں جب پرانے صحابی آیا کرتے تھے تو لنگر سے روٹیاں لے جاتے تھے اور کہتے تھے کہ ان میں بڑی برکت ہے ہم تو سارا سال کوئی بیماری ہو اپنے بچوں اور بیویوں کو یہی روٹیاں پانی میں گھول کر پلا دیتے ہیں اور وہ بیماریاں دُور ہو جاتی ہیں۔اگر احمدی اپنے ایمان پر قائم رہے تو یہ لنگر بھی ہمیشہ قائم رہے گا اور کبھی نہیں مٹے گا کیونکہ اس کی بنیا د خدا کے مسیح موعود نے قائم کی ہے جس کو خدا تعالیٰ نے یہ خبر دی ہے کہ تین سو سال کے اندر تیری جماعت ساری دنیا پر غالب آجائے گی اور تین سو سال میں یہ لنگر ربوہ میں نہیں رہے گا بلکہ تین سو سال کے بعد ایک لنگر امریکہ میں بھی ہو گا ، ایک انڈیا میں بھی ہوگا ، ایک جرمنی میں بھی ہوگا ، ایک روس میں بھی ہوگا، ایک چین میں بھی ہوگا ، ایک انڈونیشیا میں بھی ہوگا ، ایک سیلون میں بھی ہوگا ، ایک برما میں بھی ہو گا ، ایک شام میں بھی ہوگا ، ایک لبنان میں بھی ہو گا ، ایک ہالینڈ میں بھی ہوگا ، غرض دنیا کے ہر بڑے ملک میں یہ لنگر ہو گا۔محمد رسول اللہ کی برکت سے قرآنی لنگر کی ایک اور مثال پاکستانیوں اور ہندوستانیوں کے سامنے ہر سال آتی رہتی ہے عربوں اور سیدوں کا اعزاز اور وہ اس طرح کہ عرب جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وطن تھا وہاں سے سینکڑوں لوگ پاکستان یا ہندوستان آئے ہیں اور مسلمان صرف اُن کے عرب ہونے کی وجہ سے اُن کی خوب خاطر میں کرتے اور کھانے کھلاتے ہیں۔یہ بھی محمدی لنگر ہے جو آج تک آپ کی قوم کے لئے جاری چلا آ رہا ہے اور سارا سال گھلا رہتا ہے۔بیشک یہ لنگر لوگوں کے گھروں میں کھلتا ہے مگر کھلتا محمد رسول اللہ کی وجہ سے ہے۔آخر عربوں کو جو لوگ عزت دیتے ہیں کیوں دیتے ہیں؟ ہمیں تو یاد ہے کہ پُرانے زمانہ میں عرب اور سید یہ دونوں اپنے عرب او رسید ہونے پر بڑا فخر کیا کرتے تھے۔مجھے یاد ہے ایک دن حضرت اماں جان چار پائی پر بیٹھی تھیں کہ ایک سیدانی مانگنے کو آگئی اور کہنے لگی میں سیدانی ہوں میری مدد کرو۔پھر کہنے لگی مجھے پیاس لگی ہے کسی کو کہو کہ