انوارالعلوم (جلد 26) — Page 327
انوار العلوم جلد 26 327 سیر روحانی (11) علیہ ا میں اس کی مثال کے طور پر ایک واقعہ بیان کرتا ہوں۔1908ء میں جبکہ حضرت مسیح موعود الصلوۃ والسلام لاہور میں ٹھہرے ہوئے تھے لاہور کے بڑے بڑے احمدیوں نے وہاں کے بااثر لوگوں کی ایک دعوت کی جس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بھی شامل ہوئے اور آپ نے اُن معززین کے سامنے ایک تقریر فرمائی لیکن اتفاقاً تقریر کچھ لمبی ہو گئی۔خلیفہ رجب دین صاحب مرحوم جو خواجہ کمال الدین صاحب مرحوم کے خسر تھے اور دعوتوں کا انتظام کرنے میں بڑی مشق رکھتے تھے انہوں نے پیچھے سے آکر حضرت مسیح موعود عليه الصلواۃ والسلام کو کہنا شروع کیا کہ حضور! بڑی دیر ہو گئی ہے، کھانا ٹھنڈا ہو رہا ہے اور بڑے بڑے معززین آئے ہوئے ہیں۔اس پر میاں فضل حسین صاحب مرحوم کہ وہ بھی مدعووین میں سے تھے کھڑے ہو گئے اور انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مخاطب کر کے کہا کہ حضور! دنیا وی کھانے تو ہم روز ہی کھاتے ہیں ہم تو یہاں آپ کے ہاتھ سے روحانی کھانا کھانے آئے ہیں سو آپ تقریر جاری رکھیں اور ہمیں اس سے محروم نہ کریں۔اس پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تقریر جاری رکھی اور تمام غیر احمدی احباب بیٹھے سنتے رہے۔میاں فضل حسین صاحب بڑے عقلمند اور سمجھدار آدمی تھے۔مسلمانوں کے لیڈر تھے اور ابھی اُن کی جوانی کا وقت تھا جس میں بُھوک زیادہ لگتی ہے مگر مجھے یاد ہے وہ کھڑے ہو گئے اور انہوں نے بڑے جوش سے کہا کہ آپ تقریر جاری رکھیں یہ روحانی کھانا ہمیں کب نصیب ہوتا ہے۔جسمانی کھانا تو ہم اپنے گھروں میں کھا ہی لیتے ہیں ہم جو آپ کے پاس آئے تھے تو روحانی کھانا کھانے آئے تھے۔اس سے معلوم ہو ا کہ دین کی باتیں عقلمندوں کے نزدیک روحانی کھانا ہوتی ہیں۔کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ اس کے ساتھ دل کو ایمانی تقویت حاصل ہوتی ہے۔حضرت مسیح ناصرٹی بھی فرماتے ہیں کہ 22" -: انسان صرف روٹی سے نہیں بلکہ خدا کے کلام سے جیتا ہے۔پس یہ بات کہ روحانی غذا ہی اصل غذا ہوتی ہے اور جسمانی غذا اس کے مقابلہ میں کوئی حقیقت نہیں رکھتی اس کی حضرت مسیح کے کلام سے بھی تصدیق ہوگئی اور میاں فضل حسین صاحب