انوارالعلوم (جلد 26) — Page 326
انوار العلوم جلد 26 326 سیر روحانی (11) اور پیدا ہوگا۔لیکن ساتھ ہی اس کتاب میں یہ بھی لکھا ہے کہ وہ کافر تھا۔کیا ایسی کتاب کو ہم مذہبی کتاب کہہ سکتے ہیں؟ اس کتاب کے مصنفوں کو تو پاگل خانہ میں داخل کرنا چاہئے تھا جنہوں نے ایسی متضاد باتیں لکھ دیں۔اسی طرح لکھا ہے :- وو سلیمان خداوند سے محبت رکھتا اور اپنے باپ داؤد کے آئین پر چلتا تھا۔21 اگر سلیمان خدا تعالیٰ سے محبت رکھتا تھا اور اپنے باپ داؤد کے طریق پر چلتا تھا تو پھر اُس کو مشرک کہنا اور بتوں کی فرمانبرداری کرنے والا قرار دینا کونسی معقول بات ہے۔کتاب وہی ہے اور اُس میں یہ باتیں لکھی ہیں۔ان حوالہ جات سے یہ امر واضح ہو جاتا ہے کہ بائبل کا الزام جھوٹا ہے اور بیچ وہی ہے جو قرآن کریم نے بیان کیا ہے اور جس کی رو سے حضرت سلیمان شروع سے لے کر آخر تک نہایت اعلیٰ درجہ کے مؤمن اور نبی قرار پاتے ہیں۔غرض قرآن کریم نے ایسی باتیں بیان کی ہیں جن سے پہلی کتب گلیہ خالی ہیں اور یہ ثبوت ہے اس بات کا کہ قرآن کریم ایسی سچائیوں سے پُر ہے جن میں کوئی الہامی کتاب اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی اور قرآن کریم کے ذریعہ جو انواع و اقسام کی روحانی غذائیں دی گئی ہیں وہ اتنی اعلیٰ ہیں کہ اُن کی نظیر دنیا کی کسی الہامی کتاب سے پیش نہیں کی جاسکتی۔روحانی کھانوں کے مقابلہ میں دُنیوی حقیقت یہ ہے کہ دنیوی کھانے خواہ وہ کتنے ہی اعلیٰ درجہ کے ہوں اور کھانے ایک بے حقیقت چیز ہیں دنیوی نعماء خواہ وہ کتنی ہی بلند پایہ ہوں رُوحانی کھانوں اور روحانی نعمتوں کے مقابلہ میں ایک بالکل ادنی اور بے حقیقت چیز ہوتی ہیں۔اور دنیا کے سمجھدار اور نیک فطرت لوگوں نے بھی اس امر کو تسلیم کیا ہے کہ جسمانی کھانا ایک ادنی چیز ہے۔اصل چیز روحانی کھانا ہی ہے یعنی دین کی باتیں سنا اور اُس پر عمل پیرا ہونا۔