انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 310 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 310

310 سیر روحانی (11) انوار العلوم جلد 26 سب کو جمع کر کے میں نے کہا کہ دیکھو ! یہ جماعت کے لئے بڑے فتنے کا وقت ہے۔اگر اس وقت ہم قائم نہ رہے تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ جماعت قیامت تک کے لئے بکھر جائے گی۔پھر میں نے ان سے ذکر کیا کہ میں نے مولوی محمد علی صاحب کے سامنے یہ بات پیش کی تھی کہ میں آپ کا نام لے دوں گا اور جماعت آپ کی بیعت کرلے گی۔اور گو انہوں نے انکار کر دیا ہے مگر پھر بھی میں سمجھتا ہوں کہ اگر اب بھی میں ان کا نام لے دوں اور آپ لوگ میری تائید میں ہوں تو ساری جماعت ادھر ہی چلی جائے گی۔اس لئے آپ لوگ مجھے مشورہ دیں کہ میں کیا کروں؟ اور کیا یہ مناسب نہیں ہوگا کہ میں مولوی محمد علی صاحب سے کہہ دوں کہ میں آپ کا نام پیش کرتا ہوں؟ خص مجھے یاد ہے کہ اُس وقت سب سے پہلے نواب محمد علی خان صاحب کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا بالکل ٹھیک بات ہے۔ہمیں کسی خاص شخص کی خلافت سے غرض نہیں۔ہمیں تو جماعت کے اتحاد سے غرض ہے۔آپ ان کا نام پیش کر دیں۔ہم سب لوگ آپ کی تائید کریں گے۔لیکن نانا جان صاحب مرحوم نے کچھ ہچکچاہٹ ظاہر کی اور کہا کہ ہم ایسے مو کی بیعت کس طرح کر سکتے ہیں۔مگر میں نے کہا آپ نہ کریں میں تو کرلوں گا۔اور جب میں کرلوں گا تو پھر آپ کوئی اور آدمی تلاش کر لیں۔آپ کو آخر مجھ پر ہی امید ہے مگر میں نے بہر حال مولوی محمد علی صاحب کی بیعت کر لینی ہے پھر آپ جو چاہیں کریں۔اس پر وہ بھی دب گئے۔مگر خدا کی قدرت ہے تھوڑی دیر کے بعد ایک آدمی دوڑتا ہوا آیا کہ مسجد نور میں بہت سے لوگ جمع ہیں اور آپ کو بلا رہے ہیں۔میں وہاں گیا اور میں نے یہی سمجھا ہوا تھا کہ میں کوشش کروں گا کہ لوگ مولوی محمد علی صاحب کے ہاتھ پر بیعت کر لیں۔لیکن جب خدا تعالیٰ نے کام مجھ سے لینا تھا تو مولوی محمد علی صاحب کس طرح کھڑے ہو جاتے۔نتیجہ یہ ہوا کہ جب میں وہاں پہنچا تو مجھے مولوی محمد احسن صاحب مرحوم نے کہا کہ ہاتھ بڑھائیے اور بیعت لیجئے۔مجھے بیعت کے الفاظ بھی یاد نہیں تھے۔میں نے کہا مجھے تو بیعت کے الفاظ یاد نہیں۔مولوی سید سرور شاہ صاحب آگے بڑھے اور انہوں نے کہا کہ لفظ مجھے یاد ہیں میں کہتا جاؤں گا آپ دُہراتے جائیے۔اب پہلے تو مولوی محمد علی صاحب نے انکار