انوارالعلوم (جلد 26) — Page 309
انوار العلوم جلد 26 309 سیر روحانی (11) کے کمرہ میں پڑھوائی تھی اور پھر اُنہی کو آپ نے یہ وصیت دے دی کہ اسے اپنے قبضہ میں رکھو بعد میں کام آئے گی۔چنانچہ بعد میں ہم نے اسے چھپوا دیا۔اُس وقت مولوی محمد علی صاحب بھی وہاں بھاگتے ہوئے پہنچے کہ شاید ریوڑیاں بٹ رہی ہوں گی میں بھی اپنا حصہ لے لوں۔جس وقت وہ وہاں پہنچے اُس وقت اُن کے ساتھ کوئی اور دوست بھی تھے شاید شیخ رحمت اللہ صاحب تھے یا ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب تھے یہ مجھے یاد نہیں۔بہر حال خواجہ کمال الدین صاحب نہیں تھے کیونکہ وہ اُس وقت ولایت گئے ہوئے تھے۔انہوں نے آ کر مجھے بلوایا اور کہا کہ مولوی محمد علی صاحب آپ سے کچھ بات کرنا چاہتے ہیں۔میں نکلا تو قادیان سے کھارے کی طرف جو سڑک جاتی ہے اُس کی طرف وہ مجھے لے گئے اور تھوڑی دور جا کر کہنے لگے کہ میاں صاحب ! جماعت کے لئے بڑا نازک وقت ہے۔میں نے کہا مولوی صاحب! بالکل ٹھیک بات ہے بڑا نازک وقت ہے۔کہنے لگے مولوی صاحب ( یعنی حضرت خلیفہ اول) تو بڑے بزرگ آدمی تھے اُن کی بیعت ہم نے کر لی اب آگے کیا بنے گا؟ میں نے کہا مولوی صاحب کی بیعت ہم نے محض بزرگ ہونے کی وجہ سے نہیں کی تھی بلکہ اس لئے کی تھی کہ جماعت کا ایک ہاتھ پر اتحادر ہے۔وہ ضرورت تو اب بھی موجود ہے۔اس لئے اگر مولوی صاحب فوت ہو گئے ہیں تو کسی اور کے ہاتھ پر ہم جمع ہو جائیں گے۔بہتر یہ ہے کہ جماعت کے آگے یہ معاملہ پیش کر دیا جائے اور وہ جس کو پچھنے اُس کے ہاتھ پر بیعت کر لی جائے۔مولوی محمد علی صاحب کہنے لگے کہ آپ یہ بات اس لئے کہہ رہے ہیں کہ آپ کو پتا ہے کہ جماعت کس کو چنے گی۔میں نے کہا اگر آپ کے نزدیک جماعت مجھے پچھنے گی تو پھر آپ کو کیا اعتراض ہے؟ لیکن بہر حال اگر آپ کے دل میں ایسا گندا شبہ ہے تو میں کھڑے ہو کر آپ کا نام پیش کر دوں گا اور کہوں گا کہ مولوی محمد علی صاحب کے ہاتھ پر بیعت کر لو۔پھر جو میرے ساتھی اور دوست ہیں وہ ضرور آپ کے ہاتھ پر بیعت کرلیں گے اور جھگڑ اختم ہو جائے گا آپ خلیفہ ہو جائیں گے۔چنانچہ اس کے بعد میں نے اپنے سارے خاندان کے لوگوں کو جمع کیا۔ان میں نواب محمد علی خان صاحب اور میاں بشیر احمد صاحب اور غالباً ہمارے نانا جان میر ناصر نواب صاحب بھی تھے۔ان