انوارالعلوم (جلد 26) — Page 308
انوار العلوم جلد 26 308 سیر روحانی (11) اس پہاڑی پر واپس چلے جاؤ۔مگر میں نے کہا میں واپس نہیں جانا چاہتا میں اب یہیں رہوں گا۔غرض اُس وقت خدا تعالیٰ کے منہ سے میں نے سنا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام میرے نبی ہیں۔یہ دوسرا موقع تھا جس میں خدا تعالیٰ نے مجھے عملی طور پر مصلح موعود ہونے کی طرف خدا کے فضل اور رحم کے الفاظ کے ساتھ توجہ دلائی لیکن میں نے پھر بھی مصلح موعود ہونے سے انکار ہی کیا۔خواجہ کمال الدین صاحب نے بار بار لکھا کہ اگر تم مصلح موعود ہو تو قسم کھا جاؤ میں مان لوں گا 6 مگر میں نے کہا جب تک خدا مجھے نہیں کہے گا میں نے قسم نہیں کھانی۔جب خدا مجھے صاف لفظوں میں کہے گا کہ و مصلح موعود ہے تب میں اپنے آپ کو مصلح موعود۔کہوں گا۔ورنہ جب تک خدا مجھے نہیں کہے گا میں اپنے آپ کو مصلح موعود نہیں کہوں گا۔چنانچہ 1944ء میں اللہ تعالیٰ نے مجھے بتایا کہ تم مصلح موعود ہو۔اس پر میں نے ایک جلسہ ہوشیار پور میں جا کر کیا جہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مصلح موعود کی پیشگوئی بتائی گئی تھی۔اور دوسرا جلسہ لاہور میں کیا جہاں مجھ پر اس پیشگوئی کے متعلق یہ انکشاف ہوا تھا کہ میں ہی اس کا مصداق ہوں۔اور تیسرا جلسہ لدھیانہ میں کیا جہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے پہلی بیعت لی تھی۔اور چوتھا جلسہ دتی میں کیا کیونکہ دتی میں حضرت خواجہ میر درد صاحب والی پیشگوئی پوری ہوئی تھی اور میر درد کی اولا د مہدی کے ساتھ آ کر مل گئی تھی اور دونوں ایک ہو گئے تھے۔تیسرا نشان اُس وقت ظاہر ہوا جب حضرت خلیفہ اول فوت ہوئے یعنی ایک نشان تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد ظاہر ہوا اور دوسرا نشان ایک اور طرح پر حضرت خلیفہ اول کی وفات پر ظاہر ہوا۔حضرت خلیفہ اول کی بیماری میں میں نے خواب میں دیکھا تھا کہ میں جمعہ پڑھا کے نواب محمد علی خان صاحب مرحوم کے گھر کی طرف جا رہا ہوں اور گاڑی میں بیٹھا ہوا ہوں کہ مجھے پتا لگا کہ حضرت خلیفہ اول فوت ہو گئے ہیں۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔میں اُس دن جمعہ کی نماز پڑھا کر نواب محمد علی خان صاحب مرحوم کی شکرم 2 میں ان کی کوٹھی کی طرف جارہا تھا کہ راستہ میں مجھے اطلاع ملی کہ حضرت خلیفہ اول فوت ہو گئے ہیں۔نواب صاحب کو ہی حضرت خلیفہ اول نے اپنی وصیت لکھ کر دی تھی اور اُنہی