انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 307 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 307

انوار العلوم جلد 26 307 سیر روحانی (11) اب قریب آ گیا ہے اس لئے تم ہندوستان میں واپس جاؤ۔چنانچہ انہوں نے اس غرض کے لئے تین آدمی بھیجے تھے۔ایک کو بہاولپور بھیجا۔ایک صاحب کو جن کے شاگردوں میں مولوی نذیرحسین صاحب دہلوی بھی تھے جو اہلحدیث کے مشہور لیڈر تھے بنگال کی طرف بھیجا کیونکہ بنگال سے انہیں بہت مدد آتی تھی۔اور ایک کو بھوپال بھیجا۔اس سے پتا لگتا ہے کہ خدائی نوشتوں میں یہ پہلے سے مقدر تھا کہ ادھر سے خواجہ میر درد صاحب کے ساتھ یہ سلسلہ مل جائے اور اُدھر سے حضرت نانا جان صاحب مرحوم کی بہن کے ذریعہ۔تیرھویں صدی کے مجدد سے یہ سلسلہ جاملے اور اس طرح وہ بات پوری ہو جائے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تحریر فرمائی تھی کہ خدا تعالیٰ نے سید احمد صاحب بریلوی کو میرے لئے الیاس کے رنگ میں بھیجوایا تھا کہ چونکہ انہوں نے جن لوگوں کو اپنا خلیفہ بنا کر ہندوستان بھیجا تھا اُن میں سے ایک خواجہ میر درد صاحب کی نواسی کے خاوند تھے اس لئے دونوں طرف سے یہ رشتہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خاندان سے آ کر مل گیا۔بہر حال جیسا کہ میں نے بتایا ہے مجھے رویا میں کہا گیا کہ تم اس پہاڑی پر چلے جاؤ۔جب میں چلا تو مجھے اس طرح کی شکلیں نظر آنے لگیں کہیں بڑے بڑے ہاتھیوں کی شکل جیسے آدمی دکھائی دیتے تھے۔بعض کا منہ تو آدمیوں کا سا ہوتا تھا لیکن جسم ہاتھی کا۔پھر کہیں اونٹ دکھائی دیتے جن کے ہاتھ پیر آدمیوں والے ہوتے اور جسم اونٹ والا۔پھر آگے کوئی آدمی ملتا تو میں دیکھتا کہ اُس کا دھڑ تو ہے لیکن سر غا ئب ہے اور وہ شکلیں مجھے اپنی طرف بلاتیں اور کہتیں کہ جنگل میں آ جاؤ مگر مجھے خدا تعالیٰ کا بتایا ہوا فقرہ یا درہا اور میں یہ کہتا چلا گیا کہ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ اور میں نے اُن کی کسی بات کا جواب نہ دیا یہاں تک کہ چلتے چلتے میں اس جنگل کے پار گزر گیا۔جب میں جنگل سے پار گزرا تو آگے اترائی آگئی۔جب میں اترائی پر آیا تو میں نے دیکھا کہ سامنے پہاڑی پر خدا تعالیٰ بیٹھا ہوا ہے۔میں نے خدا تعالیٰ کو دیکھتے ہی کہا کہ خدایا ! آپ کا احسان ہے کہ آپ مجھے خیر وعافیت سے یہاں لے آئے ہیں۔اس پر اللہ تعالیٰ نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ دیکھو! مسیح موعود میرا نبی ہے اس پر یقین رکھو۔اور اگر چاہو تو پھر