انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 297 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 297

انوار العلوم جلد 26 297 چنانچہ دیکھو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی یہ پیشگوئی کس طرح پوری ہوئی کہ ایک عیسائی پروفیسر نے اسلام کی تائید میں ایک کتاب لکھی ہے اور وہ بھی ایک عورت ہے اور عورتیں بالعموم متعصب ہوا کرتی ہیں۔مجھے یاد ہے ایک دفعہ مشن کالج لاہور کی کچھ پروفیسر عورتیں قادیان آئیں۔میں جب احمدیت کے متعلق باتیں کرنے لگا تو ان میں سے دو تو بڑے شوق سے سنتی رہیں لیکن ایک نے دوسری عورتوں سے کہا کہ ہم یہ باتیں برداشت نہیں کر سکتیں چلو چلیں۔اسی طرح سویڈن سے ایک عورت قادیان میرے پاس آئی وہ ناروین تھی اور بڑے لمبے قد کی عورت تھی۔اس نے بھی تھوڑی سی باتیں سنیں اور پھر کہنے لگی۔میں یہ باتیں نہیں سن سکتی اسلام تو تلوار سے پھیلا ہے پھر اٹھ کر چلی گئی اور اُسی وقت قادیان سے واپس آگئی۔تو یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ ہمارے اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی یہ پیشگوئی کہ آ رہا ہے اس طرف احرار یورپ کا مزاج بڑی شان سے پوری ہو رہی ہے۔یہ توجہ تو چند سال ہوئے پیدا ہوئی اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کے متعلق پیشگوئی کوئی پچاس سال قبل کی تھی۔آپ 1908ء میں فوت ہوئے اور اب 1957 ء ہے۔تو یہ الہی تصرف ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے منہ سے جو الفاظ نکلوائے وہ اب پورے ہورہے ہیں۔دراصل یہ الہی سنت ہے کہ وہ اپنے انبیاء کے منہ سے نکلی ہوئی باتوں کو پورا کر دیتا ہے بلکہ بعض دفعہ وہ یہ سلوک انبیاء کے علاوہ اپنے بعض دوسرے بندوں سے بھی کرتا ہے اور ان کی زبان سے نکلی ہوئی باتوں کو پورا کر دیتا ہے۔بہر حال حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خواہش تھی کہ امریکہ میں اسلام کی اشاعت ہو اور یہ خواہش خدا تعالیٰ نے ایک رنگ میں آپ کی زندگی میں ہی پوری کر دی اور وہ اس طرح کہ ایک شخص مسٹر ویب مسلمان ہو گیا۔یہ شخص امریکہ کا پہلا مسلمان تھا۔سب سے پہلے یہ شخص فلپائن میں سفیر بن کر آیا۔وہاں سے بعض متمول ہندوستانی مسلمانوں نے اسے روپیہ بھیج کر ہندوستان بلوایا اور مختلف شہروں میں