انوارالعلوم (جلد 26) — Page 294
انوار العلوم جلد 26 مسجد بھی بنائی جاسکتی ہے۔294 میں نے وکالت مال کے شعبہ بیرون کے انچارج چودھری شبیر احمد صاحب کو بلایا اور ان سے دریافت کیا کہ کیا آپ کے پاس کوئی ایسا ریکارڈ ہے جس سے معلوم ہو کہ جب ہیگ سے ایک لاکھ چونتیس ہزار روپے کا تخمینہ آیا تھا تو میں نے عورتوں سے اس قدر چندہ کرنے کی اجازت دی ہو کیونکہ عورتوں کا حق تھا کہ چندہ لینے سے پہلے ان سے پوچھ لیا جاتا کہ کیا وہ یہ چندہ دے بھی سکتی ہیں یا نہیں ؟ انہوں نے کہا افسوس ہے کہ اُس وقت ہم سے غلطی ہوئی اور ہم نے حضور سے دریافت نہ کیا کہ آیا مزید رقم بھی عورتوں سے جمع کی جائے یا نہ کی جائے ؟ ہمارے پاس ایسا کوئی ریکارڈ نہیں جس کی رُو سے زیادہ رقم اکٹھا کرنے کی منظوری لی گئی ہو۔میں نے کہا میں یہ مان لیتا ہوں کہ آپ نے ایک لاکھ چونتیس ہزار روپیہ کے جمع کرنے کی منظوری مجھ سے نہ لی لیکن جب وہ رقم ایک لاکھ پچہتر ہزار بن گئی تو پھر تو آپ نے مجھ سے منظوری لینی تھی کیا آپ نے مجھ سے منظوری لی ؟ انہوں نے پھر یہی جواب دیا کہ ہم نے اس کے متعلق بھی حضور سے کوئی منظوری نہیں لی اور ہمارے پاس کوئی ایسا کاغذ نہیں جس میں یہ لکھا ہو کہ عورتوں سے ایک لاکھ چونتیس ہزار یا ایک لاکھ پچھتر ہزار روپیہ جمع کرنا منظور ہے۔اس لئے میں یہ فیصلہ کرتا ہوں کہ لجنہ اماءاللہ اس سال صرف چھتیس ہزار روپیہ چندہ کر کے تحریک جدید کو دے دے اور باقی روپیہ تحریک جدید خود ادا کرے۔لجنہ اماءاللہ چھتیں ہزار روپے سے زیادہ نہیں دے گی اور مسجد ہالینڈ ہمیشہ کے لئے عورتوں کے نام پر ہی رہے گی۔اگر مسجد لندن کو بھی ملالیا جائے تو عورتیں تین لاکھ چھیالیس ہزار رو پیادا کر چکی ہیں۔اور اگر ہیمبرگ جرمنی کی مسجد پر اس کا قیاس کیا جائے تو وہ چودہ لاکھ کا شہر ہے اور ہیگ سے بڑا ہے لیکن وہاں صرف ایک لاکھ ہیں ہزار روپیہ خرچ آیا ہے۔اب فرینکفورٹ میں مسجد کی زمین لی جارہی ہے اور اندازہ ہے کہ وہاں مسجد کی تعمیر پر اس سے بھی کم خرچ آئے گا۔دیکھو اللہ تعالیٰ نے ہماری جماعت پر کتنا فضل کیا ہے۔منارة امسیح کی تعمیر کے لئے جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تحریک کی تو صرف دس ہزار روپیہ کی تحریک کی تھی اس پر میر حسام الدین صاحب جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام سے بڑے