انوارالعلوم (جلد 26) — Page xxxiii
انوار العلوم جلد 26 22 تعارف کتب میں پھیل جائیں گی۔قرآن کریم نے حدب کا لفظ استعمال کیا ہے اور عربی زبان میں حدب کے معنے اونچے ٹیلوں کے بھی ہیں اور موج کے بھی ہیں۔گویا اس آیت میں یہ کیا گیا ہے کہ یہ تو میں سمندر میں سے ہوتے ہوئے بھی ساری دنیا میں پھیل جائیں گی اور پہاڑوں سے بھی آئیں گی اور دنیا میں پھیل جائیں گی۔چنانچہ روس پہاڑوں پر سے ہوکر چین پر قابض ہو گیا اور انگریز اور امریکہ سمندر سے آ رہے ہیں اور اس تاریخ کو جو قرآن کریم نے آئندہ زمانہ کی بیان کی تھی پورا کر رہے ہیں" پھر فرمایا: " میں نے جب پہلی تفسیر کبیر جو سورۃ یونس سے لے کر سورۃ کہف تک کی تفسیر پر مشتمل ہے لکھی تھی تو میں نے اُس میں استدلال کیا تھا کہ ان آیات میں بنی اسرائیل کے فلسطین پر قابض ہونے کے متعلق پیشگوئی کی گئی ہے۔ایک دفعہ میں شملہ گیا اور چودھری ظفر اللہ خاں صاحب کے ہاں مہمان ٹھہرا۔اُن کے ہاں اُس وقت خان علی قلی خاں بھی بطور مہمان ٹھہرے ہوئے تھے ( جو لیفٹیننٹ جنرل حبیب اللہ خاں صاحب کے والد تھے ) انہوں نے چودھری ظفر اللہ خاں صاحب سے تفسیر کبیر مطالعہ کے لئے مانگی۔پارٹیشن کے بعد انہوں نے مجھے لکھا کہ جب میں نے آپ کی تفسیر میں یہ پڑھا کہ بنی اسرائیل ایک وقت میں پھر فلسطین پر قابض ہو جائیں گے تو مجھے بوجہ پٹھان ہونے کے سخت غصہ آیا کیونکہ ہم تو بنی اسرائیل کے دشمن ہیں اور آپ نے لکھا تھا کہ بنی اسرائیل فلسطین پر قابض ہو جائیں گے۔لیکن جب امریکہ اور انگریزوں کی مدد سے بنی اسرائیل فلسطین میں داخل ہو گئے تو مجھے بڑی خوشی ہوئی اور میں نے کہا کہ قرآن کریم سچا ثابت ہو گیا کیونکہ یہ واقعہ قرآن کریم کی اس آیت کی عملی تفسیر ہے (16) خدام الاحمدیہ کے سالانہ اجتماع پر روح پرور پیغام مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کے اٹھارویں سالانہ اجتماع کے موقع پر حضرت مصلح موعود نے ایک تاریخی پیغام بھجوایا جو مؤرخہ 23 /اکتوبر 1959ء کو افتتاحی اجلاس کے موقع پر