انوارالعلوم (جلد 26) — Page 275
انوار العلوم جلد 26 275 افتتاحی تقریر جلسہ سالانہ 1957ء مسلمان مصنف مسلمانوں کی تعداد چالیس کروڑ بتاتے ہیں۔درحقیقت اب ہماری تعداد پاکستان اور ہندوستان میں دس لاکھ ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے روز بروز بڑھ رہی ہے۔بہر حال دعائیں کرو کہ اللہ تعالیٰ ہمارے ایمانوں کو بڑھاتا جائے اور غیر احمدیوں کے دلوں کو کھولے۔اور بجائے اس کے کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو گالیاں دیں اور آپ کی ہتک کریں وہ آپ کی تعریف کرنے لگ جائیں اور ان کو پتا لگ جائے کہ اس زمانہ میں یورپ اور ایشیا بلکہ ساری دنیا کی نجات حضرت مرزا غلام احمد علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ سے ہے جو اسلام اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کو پھیلانے کے لئے دنیا میں مبعوث ہوئے ہیں۔میں نے ایک خواب دیکھا تھا جو میں نے اس سال انصار اللہ کے اجتماع میں دوستوں کو سنا دیا تھا ، میں نے دیکھا کہ زمینداروں کا ایک بہت بڑا گر وہ ہے ، وہ زمیندار ایسے ہیں جومر بعوں کے مالک ہیں۔وہ راجہ علی محمد صاحب کے پاس آئے اور ان سے انہوں نے مصافحہ کیا اور پھر ایک طرف چلے گئے۔میں ان کو دیکھ کر کہتا ہوں کہ اب خدا تعالیٰ چاہے گا تو یہ ساٹھ ہزار ہو جائیں گے اور ان میں سے ہر شخص اگر سال میں ایک ایک سور و پریہ بھی مساجد کے لئے دے تو ساٹھ لاکھ روپیہ ہو جائے گا اور ساٹھ لاکھ سے ہیں مساجد بن سکتی ہیں۔اس وقت صدرانجمن احمدیہ کا کل بجٹ بارہ لاکھ ہے لیکن اس خواب سے پتا لگتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے وہ دن جلد آنے والا ہے جب ہما را چندہ ساٹھ لاکھ ہو جائے گا۔اور اگر صد را انجمن احمدیہ کے بجٹ کے ساتھ تحریک جدید کے بجٹ کو بھی ملایا جائے تو جماعت کا گل بجٹ ایک کروڑ بیس لاکھ روپیہ ہو جاتا ہے۔اور اگر ایسا ہو جائے تو بہاول پور اور خیر پور کی آمد سے بھی ہمارا سالانہ بجٹ بڑھ جائے گا۔اور اگر خدا تعالیٰ نے مزید ترقی دی تو پاکستان کی آمد سے بھی صدر انجمن احمد یہ اور تحریک جدید کی آمد زیادہ ہو جائے گی بلکہ ہم تو اس امید میں ہیں کہ امریکہ، روس، انگلینڈ، جرمنی اور فرانس کی آمد کو اگر ملا لیا جائے تب بھی صدر انجمن احمد یہ اور تحریک جدید کی آمد اس سے زیادہ ہو تا کہ یورپ اور امریکہ میں ہم پانچ چھ ہزار مساجد سالا نہ تعمیر کرا سکیں۔