انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 274 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 274

انوار العلوم جلد 26 274 افتتاحی تقریر جلسہ سالانہ 1957 ء مجھے یاد ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 1907ء کے جلسہ سالانہ کے موقع پر باہر سیر کے لئے تشریف لے گئے تو جلسہ پر آنے والے مہمان بھی آپ کے ساتھ چل پڑے۔رستہ میں لوگوں کے پاؤں کی ٹھوکریں لگنے کی وجہ سے آپ کی جوتی بار بار اتر جاتی اور کوئی مخلص آگے بڑھ کر آپ کو جوتی پہنا دیتا۔جب بار بار ایسا ہوا تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کھڑے ہو گئے اور آپ نے فرمایا معلوم ہوتا ہے کہ اب ہماری زندگی ختم ہونے کے قریب ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جماعت کی جو ترقی مقدر کی ہے وہ اُس نے ہمیں دکھا دی ہے۔اب کجا یہ کہ سات سو احمدی جلسہ سالانہ پر آئے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے خیال کیا کہ اب ہماری جماعت کی ترقی اپنی انتہا کو پہنچ گئی ہے اور ہمارا کام ختم ہو گیا ہے اور کجا یہ کہ اب جلسہ سالانہ پر ستر ہزار آدمی آ جاتا ہے گویا ہماری جماعت کی تعداد اُس زمانہ کی تعداد سے سو گنا بڑھ گئی ہے۔ہاں یہ ضرور ہے کہ لوگوں کو ایک بات سے غلطی لگی ہے اور وہ یہ کہ مفتی محمد صادق صاحب بعض دفعہ جماعت کی تعداد کے متعلق ایک اندازہ لگا لیتے اور اعلان کر دیتے کہ اب جماعت کی تعداد اتنے لاکھ ہوگئی ہے۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اگر اب ہم اپنی تعداد دس لاکھ بتاتے ہیں تو مخالف کہتے ہیں کہ تمہاری تعداد گررہی ہے تم تو آج سے کئی سال پہلے دس لاکھ سے بھی اوپر تھے۔لیکن جلسہ سالانہ پر آنے والوں کی تعداد سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہماری تعداد کم نہیں ہوئی بلکہ خدا تعالیٰ کے فضل سے روز بروز بڑھ رہی ہے۔اس سے پتا لگتا ہے کہ جماعت کی تعداد کا غلط اندازہ لگانا ایک وقت پر جا کر تکلیف دہ ہو جاتا ہے۔جب میں پہلی دفعہ 1924ء میں ولایت گیا تو وہاں کے ایک اخبار نے میری آمد کی خبر شائع کرتے ہوئے لکھا کہ یہاں ہندوستان کے بیس کروڑ لوگوں کا لیڈر آیا ہے۔میں نے اُسے لکھا کہ بیس کروڑ نہ کہو دولاکھ کہو۔چنانچہ اس نے تردید کردی۔لیکن پہلی دفعہ اُس نے ہندوستان کے سب ہندوؤں سکھوں، عیسائیوں اور مسلمانوں کو ملا کر مجھے نہیں کروڑ کا لیڈر بنا دیا تھا۔میں نے کہا میں تو صرف احمدیوں کا سردار ہوں باقی مسلمانوں کا نہیں۔اور احمدیوں کی تعداد بیس کروڑ نہیں بلکہ بیس کروڑ تو عیسائیوں کے نزدیک گل دنیا کے مسلمان ہیں۔گو