انوارالعلوم (جلد 26) — Page 273
انوار العلوم جلد 26 273 افتتاحی تقریر جلسہ سالانہ 1957ء قادیان آئے تھے اور حضرت خلیفہ اوّل کے آخری جلسہ پر آنے والوں کی تعداد غالباً گیارہ بارہ سو تھی اور اس تعداد پر اُس زمانہ میں بڑی خوشی کا اظہار کیا گیا تھا لیکن اب یہ حال ہے کہ اس سال جب شروع شروع میں 2300 مہمانوں کے آنے کی اطلاع ملی اور ابھی جلسہ سالانہ میں تین دن باقی تھے تو ہمارے ہاں بہت افسوس کیا گیا کہ اتنے کم آدمی آئے ہیں اور ابھی ربوہ کی گلیاں خالی نظر آ رہی ہیں۔آج جب آنے والوں کی تعداد ہزاروں تک پہنچ گئی ہے تب لوگوں نے کہنا شروع کیا ہے کہ اب ربوہ کی گلیوں میں رونق معلوم ہوتی ہے۔لیکن جب تک مہمانوں کی تعداد 2300 تک تھی عام طور پر یہ کہا جاتا تھا کہ ربوہ کی گلیاں خالی نظر آتی ہیں آج یہاں کے لوگوں نے مانا ہے کہ ربوہ کی گلیوں میں مہمان نظر آتے ہیں۔کل اور پرسوں یہ تعداد اِنْشَاءَ اللهُ اور بھی بڑھ جائے گی۔تو دیکھو اللہ تعالیٰ نے کس قدر فضل جماعت پر کیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں آخری جلسہ سالانہ پر جب سات سواحمدی آئے تو مجھے یاد ہے انتظام اتنا کمزور تھا اور روپیہ کی اتنی کمی تھی کہ لنگر خانہ میں جو کھانا پکا یا گیا وہ بہت کم لوگوں کو کفایت کر سکا اور اکثر مہمان بھوکے رہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو الہام ہوا کہ یايُّهَا النَّبِيُّ أَطْعِمُوا الْجَائِعَ وَالْمُعْتَرَّ 3 کہ اے نبی ! وہ لوگ جو بھو کے ہیں اور شدت بھوک کی وجہ سے تکلیف پارہے ہیں تو انہیں کھانا کھلا۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ نے اور دیگیں پکوائیں اور ان کو کھانا کھلایا۔تو اُس وقت جماعت کی مالی حالت ایسی کمزور تھی کہ سات سو افراد کے کھانے کا انتظام بھی پورے طور پر نہیں کیا جا سکا تھا اور اب ستر ہزار افراد کا انتظام بھی بڑے آرام سے چل رہا ہے۔ہاں بعض اوقات ایسا ہو جاتا ہے کہ مہمان اگر دیر سے پہنچیں تو اُن کو نئے سرے سے کھانا تیار کر کے بھیجنے میں کچھ دیر لگ جاتی ہے۔لیکن کجا ستر ہزار اور کجا سات سو۔جب سات سومہمان جلسہ سالانہ پر آئے تو اُس وقت تو یہ حالت تھی کہ خدا تعالیٰ کو الہام کرنا پڑا کہ اے نبی ! بُھوکوں اور تکلیف زدوں کو کھانا کھلاؤ۔چنانچہ آپ نے نئی دیگیں پکوائیں اور مہمانوں کو کھانا کھلایا۔لیکن اب ہم اس سے سو گنا زیادہ افراد کو بہت زیادہ آسانی اور آرام سے کھانا کھلا رہے ہیں۔