انوارالعلوم (جلد 26) — Page 252
انوار العلوم جلد 26 252 مجلس انصار اللہ مرکزیہ کے سالانہ اجتماع۔۔علوم میں محو ہو کر نئے نئے نکتے نکالتے ہیں اور فرشتوں کے متعلق تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ انہیں جن باتوں کا علم دیا جانا ضروری تھا اُس کا انہیں شروع سے علم دے دیا گیا ہے۔اور جنہیں شروع سے علم دے دیا گیا ہو انہوں نے محو کیا ہونا ہے انہیں تو محو ہونے کے بغیر ہی علم مل چکا ہے۔چنانچہ حضرت آدم علیہ السلام کے واقعہ میں خود فرشتے کہتے ہیں کہ ہم تو اتنا ہی جانتے ہیں جتنا آپ نے ہمیں سکھایا ہے 2 اور جو اُتنا ہی جانتے ہیں جتنا انہیں خدا تعالیٰ نے سکھایا ہے انہیں فقہ اور دوسرے مسائل اور علوم میں غرق ہو کر نئے نئے نکتے نکالنے کی کیا ضرورت ہے۔انہیں تو خود خدا تعالیٰ نے سب کچھ سکھا دیا ہے۔پس یہ آیات فرشتوں پر صادق آہی نہیں سکتیں۔ہمارے نزدیک اس جگہ صحابہ کی جماعت کا ذکر ہے اور چونکہ جماعت کے لئے بھی مؤنث کا صیغہ استعمال کیا جاتا ہے۔اس لئے وَالنُّزِعَتِ غَرْقًا کے معنے یہ ہوئے کہ ہم شہادت کے طور پر صحابہ کی اُن جماعتوں کو پیش کرتے ہیں جو اسلام کی تعلیم میں محو ہو کر وہ وہ مسائل نکالتی ہیں جو اسلام کی سچائی کو روزِ روشن کی طرح ثابت کر دیتے ہیں۔مگر چند دن ہوئے مجھے اللہ تعالیٰ نے سمجھایا ہے کہ ان آیات کے تیسرے معنی یہ ہیں کہ ہم اُن عورتوں کو شہادت کے طور پر پیش کرتے ہیں جو وَالنُّزِعَتِ غَرْقًا کی مصداق ہیں اور اسلام کی تعلیم پر غور کر کے ان سے نئے نئے نکتے نکالتی ہیں اور اسلام کی تعلیم میں انہاک پیدا کرتی ہیں۔اس لئے کہ اسلام نے ان پر رحم کیا ہے اور اسلام ہی وہ مذہب ہے جس میں عورتوں کے حقوق کو تسلیم کیا گیا ہے۔اور بتایا گیا ہے کہ عورت کے ماں ہونے کے لحاظ سے کیا حقوق ہیں۔بیٹی ہونے کے لحاظ سے کیا حقوق ہیں۔بیوی ہونے کے لحاظ سے کیا حقوق ہیں۔ترکہ میں اس کے کیا حقوق ہیں اور اس طرح تمدنی زندگی میں اس کے کیا حقوق ہیں۔اسی وجہ سے احمدیت میں شامل ہو کر عورتیں جس قدر قربانی اور ایثار سے کام لے رہی ہیں اس کی مثال اور کسی قوم میں نہیں ملتی۔چنانچہ دیکھ لو مسجد ہیگ (ہالینڈ) صرف عورتوں نے بنائی ہے۔اگر چہ ہیمبرگ (جرمنی) کی مسجد مردوں نے اپنے روپیہ سے بنائی ہے مگر اس کا پورا چندہ ابھی تک وہ ادا نہیں کر سکے لیکن ہیگ کی مسجد کا تمام چندہ عورتیں ادا کر چکی ہیں صرف اس کا تھوڑ اسا حصہ باقی ہے۔