انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 251 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 251

انوار العلوم جلد 26 251 مجلس انصاراللہ مرکزیہ کے سالانہ اجتماع۔۔بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ مجلس انصار اللہ مرکزیہ کے سالانہ اجتماع سے خطاب (فرموده 26 اکتوبر 1957ء بمقام ربوہ ) تشهد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل آیات قرآنیہ کی تلاوت فرمائی :۔وَالتُّزِعَتِ غَرْقًا وَ النَّشِطَتِ نَشْطًا وَ التَّبِحُتِ سَبْحًا فَالسَّبِقْتِ سَبْعًا فَالْمُدَبِّرَاتِ أَمْرًا يَوْمَ تَرْجُفُ الرَّاحِفَةُ تَتْبَعُهَا الرَّادِفَةُ قُلُوبٌ يَوْمَدٍ وَاجِفَةٌ أَبْصَارُهَا خَاشِعَةٌ 1 اس کے بعد فرمایا :۔یہ آیات جن کی میں نے ابھی تلاوت کی ہے ہم اب تک ان کے صرف ایک ہی مفہوم پر زور دیتے رہے ہیں حالانکہ ان کے اندر بعض اور مضامین بھی پائے جاتے ہیں۔گزشتہ مفسرین تو ان آیات کے یہ معنے کرتے رہے ہیں کہ اس جگہ فرشتوں کا ذکر ہے کیونکہ فرشتہ کے لئے مؤنث کا صیغہ استعمال کرتے ہیں اور یہاں چونکہ سارے صیغے مؤنث کے استعمال کئے گئے ہیں اس لئے وہ سمجھتے ہیں کہ یہاں فرشتوں کا ذکر ہے۔لیکن ہم یہ کہتے ہیں کہ یہ آیات فرشتوں پر چسپاں ہی نہیں ہوسکتیں۔اس لئے کہ وَالتَّرْعَتِ غَرُقًا ان میں ہے ہی نہیں۔غرقًا کے معنے اگر جسمانی غرق کے سمجھیں تو فرشتے کون سے تالاب میں غوطہ مارا کرتے ہیں۔اور اگر اس کے معنے روحانی سمجھیں تو غَرْقًا کے یہ معنے ہوں گے کہ وہ