انوارالعلوم (جلد 26) — Page 241
انوار العلوم جلد 26 241 ہر احمد می عورت احمدیت کی صداقت کا ایک زن آٹھ مربعے سے کم زمین ہوتی ہے۔اگر ٹوٹل کیا جائے تو میرے خیال میں یہاں ایک ہزار مربع جماعت کا ہو گیا ہے۔گو یا پانچ کروڑ کی جائیدا دصرف اس ضلع میں پیدا ہوگئی ہے اور یہ انقلاب ایک تھوڑے سے عرصہ میں ہوا ہے۔صرف تین سال کی بات ہے کہ جب یہ انقلاب ہوا۔اب دیکھ لو یہ معجزہ ہے یا نہیں ؟ پہلے اس علاقہ میں جس میں احمدی ہیں ایک پیر منورالدین صاحب تھے وہ قادیان بھی گئے تھے۔واپس آکر انہوں نے اپنے مریدوں کو کہنا شروع کیا کہ مرزا صاحب کی بات سچی معلوم ہوتی ہے۔حضرت عیسی علیہ السلام یقیناً وفات پاگئے ہیں۔مگر جب اُن کے مرید جماعت میں داخل ہونے لگے تو انہیں ہماری جماعت سے بغض پیدا ہو گیا کیونکہ ہماری وجہ سے ان کی آمدن کم ہوگئی۔کجا تو ان کی یہ حالت تھی کہ اس علاقہ میں ان کی بڑی عزت اور قدر کی جاتی تھی اور کجا یہ کہ جب ان کے تمام مرید احمدی ہو گئے تو انہیں رہنے کے لئے کوئی جگہ نہیں مل رہی تھی۔آخر ایک دوست صالح محمد صاحب نے انہیں اپنے بنگلہ میں ٹھہرایا اور پھر وہ اپنے وطن واپس چلے گئے۔غرض اللہ تعالیٰ احمدیت کی تائید میں ہمیشہ نشانات دکھاتا چلا آیا ہے۔مگر ان نشانات سے فائدہ وہی لوگ اٹھاتے ہیں جو تعصب کو پنے دل سے دور کر دیتے ہیں اور خدا اور اس کے رسول کو ہر بات پر مقدم رکھتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں ایک دوست تھے جن کا نام میاں نظام الدین تھا وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے بھی تعلق رکھتے تھے اور مولوی محمد حسین بٹالوی سے بھی ان کے دوستانہ تعلقات تھے انہیں حج کرنے کا بہت شوق تھا اور کئی حج انہوں نے کئے ہوئے تھے۔جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دعوی کیا تو اُن دنوں بھی وہ حج پر گئے ہوئے تھے۔اُن کا ایک لطیفہ مجھے خوب یاد ہے۔انہیں چائے پینے کی بہت عادت تھی۔ایک دفعہ ایک دوست نے اُن سے سوال کیا کہ میاں صاحب! آپ کو چائے پینے کی بہت عادت ہے آپ حج کے لئے بھی جاتے ہیں تو کیا کرتے ہیں وہاں تو چائے نہیں ملتی۔انہوں نے جواب دیا چائے میں ہوتا کیا ہے۔صرف گرم پانی اور پتی۔گرم پانی وہاں اکثر مل جاتا ہے باقی پتی ہی رہتی ہے سو وہ میں ساتھ رکھتا ہوں۔پہلے پتی پھانک لیتا